امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدہ پسند نہ آیا تو ایران پر دوبارہ حملہ کردوں گا۔
جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اورعبدالفتاح السیسی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ مصر اور امریکا کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قابلِ احترام شخصیت ہیں۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ آج ایک پریس کانفرنس کریں گے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز عبوری طور پر کھلی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس نے بہت سے مسائل پیدا کیے، جبکہ میڈیا بعض معاملات پر بے بنیاد خبریں نشر کر رہا ہے۔
ایران سے متعلق گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا اور معاہدے سے متعلق 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی رپورٹس درست نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت میں ایرانی بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور یہ وہ اقدامات ہیں جو ان کے بقول سابق صدرباراک اوباما کو کرنے چاہیے تھے۔
8 جون کو ایران پر بڑا حملہ کرنا تھا ، آخری لمحے صدر ٹرمپ کے حکم پر رک گئے ، اسرائیلی ایئر چیف
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ طے نہ پایا یا امریکا کو قابلِ قبول نہ ہوا تو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ کوئی اور ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کر سکتا تھا۔
صدر ٹرمپ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے سے متعلق عالمی سطح پر گہری دلچسپی پائی جا رہی ہے۔
