ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر مفاہمتی یادداشت (MoU) کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور ساکھ سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے دوبارہ اپنا “حقیقی چہرہ” بے نقاب کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کی پالیسیاں جبر، آمریت اور توسیع پسندی پر مبنی ہیں اور واشنگٹن نے ایک بار پھر اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرکے عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
🚨 BIG BREAKING:
🇮🇷🇺🇸 As fighting between Iran and the United States resumes, Iranian Supreme Leader Mujtaba Khamenei has issued a strongly worded statement accusing Washington of once again abandoning its commitments.
He said:
“Today, the Great Satan has once again revealed… pic.twitter.com/DrmX3XjtQA
— Global War Desk (@GlobalNewsHQI) July 18, 2026
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آج عظیم شیطان نے ایک بار پھر اپنا بے نقاب چہرہ دکھایا ہے تاکہ جرائم اور وعدہ خلافی کا یہ سیاہ باب امریکا کی بددیانتی، غیر معقول رویے، ناقابلِ اعتماد ہونے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت بن جائے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ “شہید رہبر” کے جنازے نے دشمن کو غصے اور خوف میں مبتلا کر دیا، جبکہ امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ ملکی حکام پر اعتماد رکھیں، تنقید کرتے وقت احتیاط سے کام لیں اور قومی اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے تقسیم اور تصادم سے گریز کریں۔
ایران کا امریکا سے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خامنہ ای کے سخت مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران، واشنگٹن پر اعتماد کو مکمل طور پر ختم شدہ سمجھتا ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی حل کے امکانات کو مزید محدود کر دیا ہے۔