ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان ، ترکیہ اور قطر مفاہتی یادداشت کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا سے متعلق معاملات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، ایران امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے کوئی نیا ثالث نہیں۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ ، بلغاریہ اور یوکرین نے ایران جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی صلاحیتیں استعمال کر رہا ہے، قطر ضرورت پڑنے پر سہولت کاری میں مدد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے کے قیام پر کام جاری ہے، امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
امریکا سے جنگ ختم کرنے کیلئے دوبارہ مذاکرات کی درخواست نہیں کی ، اسماعیل بقائی
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایم او یو کے تحت بحری آمد و رفت کی بحالی کی اجازت نہیں دی اور مدت ختم ہونے سے پہلے حملہ کیا۔ امریکی جارحیت جاری رہنے تک غیرمستحکم صورتحال برقرار رہے گی، امریکا کی ایران کے خلاف جنگ درحقیقت پورے خطے کے خلاف جنگ ہے۔
دوسری جانب مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور معاہدے میں ہے، اسی لیے ایران پر بڑے فوجی حملے کا منصوبہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی درخواست پر منسوخ کر دیا گیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ کارروائی کی جاتی تو دوسری جنگ عظیم کے بعد خطے میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہوتا تاہم ان کی خواہش لوگوں کو مارنا نہیں بلکہ امن کے ذریعے مسائل حل کرنا ہے۔
