امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور معاہدے میں ہے، اسی لیے ایران پر بڑے فوجی حملے کا منصوبہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی درخواست پر منسوخ کر دیا گیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ کارروائی کی جاتی تو دوسری جنگ عظیم کے بعد خطے میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہوتا تاہم ان کی خواہش لوگوں کو مارنا نہیں بلکہ امن کے ذریعے مسائل حل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی اتحادی ممالک بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ رابطے مذاکراتی فریم ورک کے تحت جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز آج دوپہر سے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ جب بھی ضرورت ہو، مذاکرات کے لیے تیار ہے اور امید ہے کہ بات چیت مثبت نتائج دے گی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے، جبکہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق بھی ایک اہم معاہدہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والا معاہدہ ہی خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق خبروں کی تردید کر دی
انہوں نے خبردارکیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی انتظامیہ سفارتی کوششوں کو ہر ممکن موقع دے گی تاکہ خطے کو ایک نئی جنگ سے بچایا جا سکے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
ایک صحافی کے سوال پرجواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کینیڈا میں جنگلات کی آگ کے مسئلے پر اقدامات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس معاملے پرکیا فیصلہ کیا آپ کوجلد معلوم ہوجائے گا۔
