سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں کسٹمز کی کارروائی اور ایف بی آر کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے، ایف بی آر پر رشوت لینے کا الزام بھی لگ گیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سگریٹ برآمدگی کے معاملے، کسٹمز کی کارروائی اور ایف بی آر کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے وفاقی سیکرٹری داخلہ کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری داخلہ کو اجلاس میں شریک ہونا چاہیے۔ اس پر جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ سیکرٹری تبدیل ہو چکے ہیں اور نئے سیکرٹری جلد ذمہ داریاں سنبھال کر اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
چیئرمین کمیٹی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وزیر داخلہ خود کہہ چکے ہیں کہ “سب کچھ تباہ ہو چکا ہے” تو پھر مزید کیا باقی رہ جاتا ہے۔
اجلاس میں سگریٹ برآمدگی کے معاملے پر کسٹمز حکام نے بتایا کہ ضبط کیے گئے ٹرک ان کے قبضے میں ہیں اور موٹروے پولیس کو اطلاع بھی کسٹمز نے دی تھی کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ سگریٹ اسمگل شدہ ہیں۔ تاہم سینیٹر طلحہ محمود نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کسٹمز کا نہیں بلکہ سیلز ٹیکس کا معاملہ ہے، جبکہ بارڈر بند ہونے کی صورت میں افغانستان سے اسمگلنگ کا دعویٰ بھی سوالیہ نشان ہے۔
کسٹمز حکام نے واضح کیا کہ درج مقدمے میں کسی شخص کا نام شامل نہیں جبکہ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سینیٹر فیصل سلیم کے رشتہ داروں کا نام میڈیا میں کیوں لیا گیا حالانکہ کسی کے خلاف شواہد موجود نہیں تھے۔
انہوں نے ایف آئی اے کو فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ معلوم کیا جائے کہ سینیٹر کے خلاف خبر کیوں چلائی گئی، اور ایف بی آر، کسٹمز اور موٹروے پولیس کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں۔ چیئرمین نے شام تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ واضح کیا جائے کہ برآمد ہونے والے سگریٹ کس کے تھے۔
سینیٹر دلاور نے بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ برآمد ہونے والے سگریٹ اسمگل شدہ نہیں تھے، پھر ان کا نام کیوں استعمال کیا گیا، اس کا جواب دیا جائے۔
پشاور ہائیکورٹ نے واپڈا ملازمین کے مفت بجلی یونٹس ختم کرنے کا حکومتی اقدام قانونی قرار دے دیا
اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے ایک نیا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے انہیں بتایا کہ ایف بی آر میں چھوٹ (ایکسیمپشن) سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے 25 کروڑ روپے رشوت لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ درست ہے تو یہ ایف بی آر کی کارکردگی پر انتہائی سنگین سوال ہے تاہم اس الزام کے حق میں اجلاس میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی متعلقہ ادارے کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔
