اسرائیلی ائیر چیف نے کہا ہے کہ 8 جون کو ایران پر حملے کیلئے تیار تھے مگر ہمیں آخری وقت میں صدر ٹرمپ کے حکم پر یہ کارروائی روک دی گئی تھی۔
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ائیر فورس چیف جنرل اوہمر ٹشلر نے انکشافات کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بعد ایران اسرائیل کشیدگی دوبارہ بڑھنے پر 8 جون کو اسرائیلی ائیرفورس ایران پر بڑے حملے کے لیے تیار تھی۔ اسرائیلی ائیر فورس نے ایران کے سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔
معاہدے پراسرائیل کی پریشانی بتاتی ہے کہ ہم فاتح رہے، ایرانی صدر
جنرل اوہمر ٹشلر نے کہا کہ ایک گھنٹہ قبل اسکواڈرنز بریفنگ دینے کے دوران حملے روکے گئے کیونکہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے کی صورت میں اسرائیل اکیلا ہو گا اور امریکا اس میں شریک نہیں ہو گا۔
اس انکشاف نے خطے میں جاری کشیدگی ، امریکا کے کردار اور اسرائیلی عسکری حکمت عملی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، مبصرین کا کہنا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں کسی نئی بڑی جنگ سے گریز کا خواہاں ہے۔
جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری ہی حل ہے، پوپ لیو کا ایران امریکا امن معاہدے کا خیرمقدم
واضح رہے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط جمعہ کو ہوں گے ، یادداشت پر دستخط کی تقریب جنیوا میں رکھی گئی تھی تاہم اب تقریب جنیوا کے بجائے سوئٹزر لینڈ میں ہو گی۔
