تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حملے روکنے کی کوئی درخواست نہیں کی گئی ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ایرانی فوجی حکام نے کہا امریکی صدر کا بیان بےبنیاد ہے اور اس میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے۔ کیونکہ تہران نے امریکا سے نئی فوجی کارروائیوں نہ کرنے کے حوالے سے کوئی درخواست نہیں کی ہے۔
ایرانی فوجی حکام نے کہا ہے کہ امریکا سے حملے روکنے کی کوئی درخواست نہیں کی گئی، جبکہ اس دعوے کو انہوں نے “ایک نیا جھوٹ” قرار دیا۔
حکام کے مطابق ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں۔ دفاعی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ویک اینڈ پر ایران پر بڑا حملہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کیا، حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا مہم جوئی سے باز رہے ، عباس عراقچی کے فیلڈ مارشل اور سعودی و ترک وزرائے خارجہ سے رابطے
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جلد معاہدہ طے پا گیا تو حملہ نہیں ہو گا۔ اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
