پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی بات غیر آئینی ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی عہدہ چھوڑ دیں۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق غیر آئینی بیانات دینے والوں کو وفاقی وزارت داخلہ جیسے اہم عہدوں پر نہیں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں نئے صوبے بنانے کا واضح طریقہ کار موجود ہے، جس پر عمل کیے بغیر کوئی نیا صوبہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔
کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے قرارداد کی منظوری آئینی تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے قرارداد منظور کر چکی ہے، تاہم سندھ میں نئے صوبے کی کوئی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئین منتخب سیاسی قیادت نے دیا مگر بعد ازاں اسی قیادت کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کسی بھی وزیراعظم کو اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کرنے دی گئی، جس سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچا۔
نثار کھوڑو نے زور دیا کہ ملک کے مسائل کا حل صرف آئین کی بالادستی، جمہوریت کے تسلسل اور آئینی اداروں کے استحکام میں ہے۔
انہوں نے جلال پور کینال منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوگا تو سندھ حکومت اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھائے گی اور اپنے مؤقف کا دفاع کرے گی۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کے دوران اس امر کی نشاندہی کی کہ موجودہ طرز حکمرانی بڑھتی ہوئی آبادی، پیچیدہ انتظامی معاملات اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 خوارج ہلاک، میجر شہید
ان کا مؤقف تھا کہ اگر موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ برسوں میں بھی ملک کو انہی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام جیسے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر بیٹھ کر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا تاکہ انتظامی اختیارات عوام کے مزید قریب منتقل کیے جا سکیں۔
