آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ سوات میں ہونے والے دھماکے کے خود کش حملہ آور کی شناخت ہوگئی،تحقیقات کے لیے جےآئی ٹی بنائیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس شہدا کے لواحقین کو پیکج دیں گے ،دہشت گردی کے واقعےکا خدشہ موجود تھا ،پولیس جوانوں نے خود کش حملہ آور کو روکا جس پر دھماکہ ہوا۔
سوات میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن ، 4 دہشتگرد ہلاک ، ایلیٹ فورس کا کانسٹیبل شہید
پولیس کے پاس اس وقت جدید اسلحہ ہے ،ہم بہتری لائیں گے ،دہشت گرد ایک جگہ پر نہیں رہتے، خود کش حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے،دوسرے خود کش حملہ آورکی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں،دہشت گردوں کا پیچھا کررہے ہیں، دوبارہ منظم نہیں ہونے دیں گے۔
دوسری جانب خود کش دھماکے کامقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ ایس ایچ او کبل کی مدعیت میں اے ٹی سی تھانے میں درج کیا گیا۔
علاوہ ازیں خودکش دھماکے کے 2 مزید زخمی پولیس اہلکار اسپتال میں دم توڑگئے، پولیس کے مطابق گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے میں شہدا کی تعداد 17 ہوگئی۔
سوات میں فائرنگ، پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما قتل
قبل ازیں شہید ہونے والے 5پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی ،پولیس ٹریننگ اسکول سوات میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ نمازجنازہ اداکی گئی۔شہیداہلکاروں کی میتیں تدفین کے لیے آبائی علاقوں کوروانہ کردی گئیں۔

