آبنائے ہرمز سے چینی تیل بردار جہازوں کے نکلنے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں بڑھنے لگیں، جبکہ امریکی قیادت کی جانب سے بھی مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق دو چینی سپر ٹینکرز، جو تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہے تھے، خلیج سے نکل کر آبنائے ہرمز عبور کر گئے، جو عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ “بہت جلد” ختم ہو سکتی ہے، جبکہ نائب صدر نے تہران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال “بہتری کی جانب” جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ ممکنہ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے کے قریب تھے، تاہم ایران کی جانب سے نئی تجاویز سامنے آنے پر اس عمل کو روک دیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو آئندہ دنوں میں حملہ کیا جا سکتا ہے۔
ادھر ایران نے جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط میں امریکی افواج کا انخلا، پابندیوں کا خاتمہ اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکی حکام کے مطابق مذاکرات پیچیدہ ہیں اور ایرانی قیادت کے مؤقف میں ابہام پایا جاتا ہے۔
یہ تنازع گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے، جس کے باعث عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہوئی اور خلیج سے سینکڑوں آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت رک گئی تھی۔ حالیہ پیش رفت کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت بھی کم ہو کر 110 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، تاہم بعد میں کچھ بحالی دیکھنے میں آئی۔
سرمایہ کار اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران کسی مشترکہ حل تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں، کیونکہ امریکی پالیسی میں مسلسل تبدیلی غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہے۔
