چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ امریکا ایران معاہدے پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے، خطے میں پائیدار سیکیورٹی کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین کو خطے میں پائیدار سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وانگ ای نے کہا کہ عالمی نظام کو مسلسل نئے چیلنجز اور بحرانوں کا سامنا ہے، جبکہ دنیا عدم استحکام کے ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق غیر متوقع بحران اور طویل عرصے سے نظر انداز کیے گئے خطرات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث عالمی امن و استحکام کو نئے خطرات لاحق ہیں۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی برادری کو تصادم کے بجائے مکالمے، تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی فیصلوں اور بین الاقوامی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی مؤثر نمائندگی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ممالک، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے، طاقتور ہوں یا کمزور، عالمی برادری کے مساوی رکن ہیں اور انہیں عالمی امور میں برابر کا حق اور آواز ملنی چاہیے۔
وانگ ای نے کہا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانا اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مربوط اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس سے قبل نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کا خیرمقدم کیا جبکہ اتفاق رائے سے خطے میں پائیدار امن واستحکام کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
سوئٹزر لینڈ میں ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا مقام تبدیل
چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے پاکستان کی فعال سفارتی رسائی اور مضبوط ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ معاہدے سے ایران اور امریکا کے درمیان پائیدار روابط کیلئے مدد ملی۔
بین الاقوامی امن و استحکام میں اہم کردار ادا کرنے پر چینی وزیرخارجہ نے پاکستان کی تعریف کی ، اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کی کوششوں کیلئے چین کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
