آئندہ مالی سال کیلئے سندھ کا بجٹ پیش کردیا گیا ، تنخواہوں اور پنشن میں 7فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے آج 13ویں مرتبہ سندھ کا بجٹ پیش کر رہا ہوں،مسلسل گیارہ بجٹ پیش کرنامیرے لیے اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے۔کسی منتخب عوامی نمائندےکومسلسل اتنی باربجٹ پیش کرنےکاموقع نہیں ملا۔
مرحوم والدین کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں، ان کی اقدارآج بھی میری رہنمائی کرتی ہیں،سندھ کےعوام کی خدمت کےسفرمیں اہلخانہ کی قربانیوں اورتعاون کا شکر گزار ہوں۔
شہیدذوالفقارعلی بھٹونےجمہوریت اورسماجی انصاف کی بنیادوں کومضبوط کیا،شہیدبینظیربھٹوکی جرأت اورقربانیاں قوم کے لیےمشعل راہ ہیں،صدرآصف علی زرداری کی رہنمائی اورمستقل حمایت پر شکر گزار ہوں۔
چیئرمین بلاول بھٹوکاعوام دوست ترقی اورسماجی انصاف کاوژن ہماری ترجیحات کامحور ہے،ہاریوں،محنت کشوں، خواتین اورنوجوانوں کی فلاح ترقیاتی ایجنڈےکا بنیادی حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج وطن کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کےتحفظ کی ضامن ہیں۔
پاکستان خطےمیں امن، استحکام اوراصولی سفارتکاری کی مضبوط آوازبن کرابھرا ہے،ایران بحران میں پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے فعال کردار ادا کیا،پاکستان نےایک بارپھرثابت کیاکہ وہ خطے میں امن اور مکالمے کا داعی ہے۔
سندھ کےباہمت اورثابت قدم عوام کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں،سندھ نےآرٹیکل 164کےتحت قومی استحکام کیلئے260ارب روپےکےانتظامات پراتفاق کیا،260ارب کی معاونت کےباوجودسندھ نےآئینی حقوق اورترقیاتی ترجیحات کاتحفظ یقینی بنایا۔
سندھ نےقومی مفادمیں کرداراداکیا،مگراین ایف سی ایوارڈکےتحت حقوق پرسمجھوتہ نہیں کیا،سندھ کے عوام نے ہمیشہ ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا،سندھ حکومت نےقومی ذمہ داری اورعوامی ترقی کوساتھ لےکرچلنےکی مثال قائم کی۔
سندھ کی مالی سال 26-2025 میں 900 ارب سے زائد کی ریکارڈ ترقیاتی سرمایہ کاری ہوئی ،ترقیاتی پروگرام کےتحت سڑکیں، اسپتال، اسکول اورپانی کےمنصوبے مکمل کیے گئے۔
سندھ حکومت نے952ترقیاتی اسکیمیں مکمل کرکےعملی ترقی کی نئی مثال قائم کی،337سڑکوں، 179بلدیاتی اور175پانی ونکاسی کےمنصوبے مکمل کیے گئے،900ارب کےترقیاتی پروگرام کےثمرات سندھ کےہرضلع تک پہنچ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریرمیں کراچی کےترقیاتی منصوبوں کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کےمیگاترقیاتی منصوبوں پرسندھ حکومت کی خصوصی توجہ ہے،کراچی میں مجموعی طور پر 816ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
کراچی کےمنصوبوں پر کل 644.3ارب روپےخرچ ہونےکا اندازہ ہے،مالی سال 27-2026میں کراچی کیلئے100ارب 19کروڑروپےمختص ہیں،کراچی میں 500ملین سےزائدلاگت کے167بڑے منصوبے جاری ہیں۔
شاہراہ بھٹو اورکورنگی کازوے جنکشن منصوبے کے لیے 15 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص ہیں ، کراچی میں1000ملین سےزائدلاگت کے110میگامنصوبے شامل ہیں۔
کراچی کی822اسکیموں کیلئےمجموعی طور پر 108.1 ارب روپے مختص ہیں ، کراچی کےانفراسٹرکچر،ٹریفک، صفائی، پانی اورتعلیم کیلئےاربوں کےترقیاتی منصوبے بجٹ کا حصہ ہیں۔
کراچی میں ایئرپورٹ روڈسےاسٹارگیٹ تک 1.2ارب روپےسےنیافلائی اوور تعمیر کیا جائے گا،ملیرہالٹ سےشارع فیصل تک1.5ارب کی لاگت سےرائٹ ٹرن انڈرپاس بنے گا۔
گجرنالہ پرسرشاہ سلیمان روڈکراسنگ فلائی اوور کے لیے 1.65 ارب روپے مختص ہونگے،عظیم پورہ انٹرسیکشن فلائی اووراورشاہ فیصل روڈمنصوبے کیلئے10کروڑ50لاکھ روپے جاری ہونگے۔
کراچی کےبڑےبرساتی نالوں کی تعمیروبحالی کےتیسرےمرحلے کیلئے ایک ارب روپے کا منصوبہ ہے،گجرنالہ کی بحالی اورسروس روڈزکی تعمیر کا ایک ارب 10 کروڑ روپے کا منصوبہ جاری ہے۔
ایم نائن سے تھدو نالہ تک اسٹورم واٹر ڈرین منصوبے کے لیے 28 کروڑ روپے،صدرٹاؤن کی سڑکوں اورانفراسٹرکچرکی بحالی کیلئے 31 کروڑ 94 لاکھ روپے،ڈولمن مال سےچائناپورٹ کلفٹن تک سی وال اورساحلی سڑک منصوبے کیلئے5کروڑروپےمختص کئے گئے ہیں ۔
شاہراہ بھٹوایکسپریس وےتک نئی رابطہ سڑک کیلئے70 کروڑ 38 لاکھ روپے رکھے گئے،کراچی میں 6جدید گاربیج ٹرانسفراسٹیشنزکیلئے 166کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔
سالڈ ویسٹ پروگرام کے لیے 9 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص ہیں ، جام چاکرو اورگوند پاس لینڈفل سائٹس کی اپ گریڈیشن کیلئے118کروڑ روپےکا منصوبہ جاری ہے۔
کےفورمنصوبےسےمنسلک پانی فراہمی نظام کی توسیع کیلئے 57 کروڑ 52 لاکھ روپے رکھے گئے،ضلع شرقی اوروسطی کےواٹرپمپنگ اسٹیشنزکی اپ گریڈیشن کیلئے ایک ارب روپے کی تجویز ہے۔

کراچی کے مرکزی واٹر ٹرنک مین سسٹم کی مرمت اور لیکیجز کے خاتمے کا بڑا منصوبہ شروع ہے،لیاری ایکسپریس وےکیساتھ نئی واٹرسپلائی لائن منصوبےکیلئے127کروڑ روپےمختص کئے گئے ہیں ۔
وبائی بیماریوں کےاسپتال کیلئے اس سال ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں،کراچی میں نئےمیڈیکل کالج کےقیام کیلئےترقیاتی فنڈز جاری کیے جائیں گے۔
لیاری میں بلاول بھٹوانجینئرنگ کالج کےمنصوبے پر 184کروڑ روپے سے زائد لاگت آنے کا امکان ہے،شہیدذوالفقار علی بھٹولایونیورسٹی کراچی کیلئے 20کروڑروپے رکھے گئے ہیں۔
کراچی ایجوکیشن کمپلیکس منصوبےکیلئے ترقیاتی فنڈزجاری کیے جائیں گے،سندھ ریونیوبورڈ کی نئی ٹریننگ اکیڈمی اوردفترکےقیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
کراچی میں صوبائی سول سروسزاکیڈمی کےقیام کیلئے 1ارب روپے،کاروباری مراکزاورمارکیٹوں کی بہتری کیلئے 26کروڑ25لاکھ روپےرکھےگئے ہیں۔
شہرکراچی میں ٹرانسپورٹ، پانی اورنکاسی آب کےمنصوبےپہلی ترجیح ہیں،کراچی واٹراینڈسیوریج امپروومنٹ پراجیکٹ فیز ٹو کیلئے فنڈزدینےکی تجویز ہے،گریٹرکراچی سیوریج پلان (ایس 3) پر کام جاری رکھنے کے لیے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
وزیراعلیٰ سندھ کا بجٹ تقریر میں کہنا تھا کہ کےفورواٹرسپلائی منصوبےاورمتعلقہ اسکیموں کیلئے فنڈنگ جاری ہوگی،کراچی ریڈلائن بی آرٹی منصوبے کیلئے 13.2ارب روپےمختص ہیں،ییلولائن بی آرٹی کوریڈورکیلئے 3.5ارب روپےسے زائد فنڈزرکھے گئے۔
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کےفیز ون اورفیز ٹو کیلئے بجٹ مختص کیاگیا ہے،کراچی میں جدیدفرانزک لیبارٹری اورفرانزک سائنس ایجنسی کےقیام پرکام تیزکیاجائےگا۔
این آئی سی وی ڈی کراچی میں بچوں کےامراضِ قلب یونٹ کیلئے 1.4ارب روپےمختص کئے گئے ہیں،کلفٹن میں متبادل ٹریفک روٹس کی تعمیرکانیا منصوبہ بجٹ میں شامل ہے،کراچی فائربریگیڈکوبین الاقوامی معیارپرجدیدبنانے کا منصوبہ منظور کرلیا گیاْ
کراچی کی مختلف شاہراہوں اوراندرونی سڑکوں کی بحالی کیلئے فنڈزرکھےگئےہیں،گجر،محمودآباداوراورنگی نالوں کےمتاثرین کی آبادکاری کیلئے فنڈنگ جاری کردی گئی۔
لیاری کی ترقی اوربحالی کےپیکج کیلئے 4.37ارب روپےرکھنےکی تجویز ہے،کراچی کےمختلف اضلاع میں سڑکوں کی بحالی اورتعمیرنوکےمنصوبےجاری ہیں،ملیرایکسپریس وےسےمنسلک نئےانٹرچینج اوررابطہ سڑکوں کےمنصوبےشامل ہیں۔

خیابان اتحاداورخیابان شہبازپر2نئےانڈرپاسزتعمیر کیے جائیں گے،ایم 9اورابوالاصفہانی روڈ کے سنگم پر نئے انٹرچینج کی تعمیر کا فیصلہ کیاہے،شاہراہ فیصل، ملیرہالٹ اوراسٹار گیٹ پرٹریفک کی روانی بہتربنانےکےمنصوبےشامل ہیں۔
کراچی میں نئی اسٹریٹ لائٹس اورانفراسٹرکچرکوبہترکرنےکےمنصوبے شروع کیےجائیں گے،شہر میں کچرےکی منتقلی کےجدیداسٹیشنزاورویسٹ مینجمنٹ منصوبوں پرکام جاری ہے۔
جام چاکرواورگوند پاس لینڈفل سائٹس کی اپ گریڈیشن کیلئے فنڈزرکھےگئے ہیں،کراچی کےمختلف علاقوں میں پانی کی لائنوں اورپمپنگ اسٹیشنزکی بہتری کےمنصوبے شامل ہیں۔
شاہراہ بھٹواورملیرایکسپریس وےکےاطراف درخت لگانےکامنصوبہ جاری ہے،کراچی یونیورسٹی اورجناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سمیت دیگرتعلیمی اداروں کیلئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔
بلدیہ، کورنگی، ملیر،وسطی، شرقی اورغربی اضلاع میں سڑکوں کی بحالی کےمنصوبےشامل ہیں،اسپورٹس کمپلیکس، اسٹیڈیمز اورنوجوانوں کی سہولیات کے منصوبوں کیلئے رقم تجویز کی گئی ہے۔
چہرہ شناس اورنمبرپلیٹ شناختی ٹیکنالوجی سےنگرانی کانظام مزیدمؤثربنایا گیا ہے،کراچی میں گاڑیوں کی چوری اورچھیننے کے واقعات میں 67فیصدکمی ہوئی ہے،اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں 54فیصدکمی ریکارڈ کی گئی ہے۔جرائم کی نشاندہی اورسراغ رسانی کی شرح 81فیصدتک پہنچ گئی،کراچی کامعاشی مستقبل مزید شانداربنایاجائے گا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کےقیام کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کوخطےکامالیاتی، سرمایہ کاری اورفِن ٹیک مرکزبنانےکامنصوبہ ہے،ایس آئی ایف سی کیلئے کراچی میں 3ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کراچی کوعالمی سرمایہ کاری اوراسلامی فنانس کےعلاقائی مرکزمیں تبدیل کرنےکا ہدف ہے،کراچی میں ٹیکنالوجی، اے آئی اورکلاؤڈکمپیوٹنگ سرمایہ کاری کےنئےمواقع پیداہونگے،بلاول بھٹو کےوژن کےتحت سندھ کوپاکستان کاپہلاجامع انرجی مرکزبنائیں گے۔
سندھ توانائی پیداکرنے کیساتھ ساتھ انرجی برآمد کرنے والا صوبہ بنےگا،سندھ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنےمیں مرکزی کردارادا کررہا ہے،تھرکےکوئلےسےلےکرشمسی اورہواکےذریعےگرین انرجی میں انقلابی اقدامات جاری ہیں۔
سندھ کی توانائی پالیسی قومی توانائی سلامتی کونئی مضبوطی فراہم کر رہی ہے،سندھ کےکوئلےنےپاکستان کوروشنی دی، اب گرین انرجی ملک کامستقبل روشن کرےگی،کراچی اورحیدرآبادکےاطراف گرین ڈیٹاانفراسٹرکچرمنصوبےپرکام جاری ہے۔
تھر،جھمپیر،دھابیجی، ٹھٹہ اورکراچی ملکرسندھ کانیاانرجی کوریڈورتشکیل دےرہےہیں،قابل تجدید توانائی سےچلنےوالےڈیٹا سینٹرزاورٹیکنالوجی زونزقائم کیے جائیں گے،شمسی توانائی، ونڈکوریڈوراورگرین انرجی پارکس سندھ کی نئی معاشی طاقت بنیں گے۔

سائٹ، کورنگی اورپورٹ قاسم صنعتی علاقوں کوگرین انرجی سےمنسلک کرنےکامنصوبہ ہے،توانائی میں خودکفالت سندھ کی معاشی خودمختاری کی بنیاد بنے گی،سندھ کابجٹ شہریوں کےتحفظ، انسانی ترقی اورروشن مستقبل کا عکاس ہے۔
ہربچےکوتعلیم، ہرشہری کوصحت اورہرنوجوان کومواقع فراہم کرناپیپلز پارٹی کا وژن ہے،سندھ حکومت کےبجٹ سےہرضلع کوخوشحالی اورترقی کےثمرات ملیں گے۔
بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،720ارب روپے ترقیاتی امور کیلئے رکھے گئے ہیں،عوام اور کاروباری طبقے کوریلیف فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں،سندھ کابجٹ آئینی حقوق، پائیداری اورعوامی فلاح پر مبنی ہے۔
متوسط طبقے کوسولر پینلز مفت فراہم کیے گئے ،سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیر کامنصوبہ جاری ہے ،بجٹ سے ہر ضلع کوخوشحالی اورترقی کے ثمرات حاصل ہوں گے۔
