امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران پر فوری حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے تاہم ضرورت پڑی تو امریکی فوج ہر قسم کی کارروائی کیلئے مکمل تیار ہے۔
تین دن قبل امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور دوبارہ جنگ کے خدشات پر کہا تھا کہ امریکا تہران کے ساتھ معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں، ایک یا 2 جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا باقی ہے جن پر ضرورت پڑنے پر صرف 10 منٹ میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کی مسلح افواج کو حکم دیا تھا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر جواب دیا جائے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال سے مطمئن ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے معاملے پر امریکا کی پوزیشن مضبوط ہے اور بظاہر واشنگٹن کو وہ سب کچھ مل رہا ہے جو وہ چاہتا ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوری حملے کا کوئی ارادہ نہیں اور ممکن ہے کہ حملے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکا بندی نے تہران کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب آبنائے ہرمز سے زیادہ تیل گزر رہا ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جن میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے، امریکا ایران سے بات چیت کر رہا ہے اور اب دیکھنا ہے کہ معاملات آگے کس سمت جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکا ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا، تاہم فی الحال سفارتی رابطوں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خیال رہے دو روز قبل امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر ایران پر جوہری حملہ کر سکتے ہیں۔
ایکس پر جاری بیان میں ٹکر کارلسن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی الیکشن کے نتائج سے پریشان نیتن یاہو کو مشکلات سے بچنے کے لیے پھر ٹرمپ اور جنگ کی ضرورت ہے، اسرائیلی وزیراعظم ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے قریبی ساتھیوں پر ہر ممکن دباو ڈال رہے ہیں۔



