امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا رواں سال کے اختتام کے بعد اسرائیل کیلئے سالانہ مالی امداد فراہم نہیں کرے گا، اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی فاکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر فراہم کرتا ہے، تاہم ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان کئی ماہ قبل یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ مالی امداد کا یہ سلسلہ بند کردیا جائے گا۔
BREAKING: President Trump says the U.S. will end roughly $4 billion in annual aid to Israel by the end of the year, revealing that Prime Minister Benjamin Netanyahu agreed to the decision.
“Because they don’t need it,” Trump said during an exclusive interview on @foxandfriends, describing Israel as a thriving country that no longer requires American financial assistance.
Trump also said Netanyahu raised the idea of ending the aid himself. He emphasized that Israel remains one of America’s most reliable allies as the two countries prepare for a major shift in their financial relationship.
Download the FOX News app for the latest details: https://t.co/ISpW9Fc0R3
— Fox News (@FoxNews) November 3, 2026
انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کو امریکی مالی ادائیگیاں روک دی جائیں گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ آئندہ امریکا اسرائیل کو باقاعدہ مالی امداد فراہم نہیں کرے گا، تاہم اگر اسرائیل کو کسی مشکل یا ضرورت کا سامنا ہوا تو واشنگٹن اس کی مدد کرے گا۔
ٹرمپ کے بیان کو امریکا اور اسرائیل کے درمیان مالی تعاون کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم امداد کی بندش کے طریقہ کار اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
اسرائیل کو امریکی امداد کا تاریخی پس منظر
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک اسے 130 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کرچکا ہے۔ اس امداد میں فوجی سازوسامان، دفاعی ٹیکنالوجی، میزائل دفاعی نظام اور دیگر سکیورٹی تعاون شامل ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان 2016 میں 10 سالہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا اطلاق 2019 سے 2028 تک ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا نے اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جس میں 33 ارب ڈالر فوجی سازوسامان اور دفاعی ضروریات کے لیے، 5 ارب ڈالر میزائل دفاعی نظام کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ جبکہ سالانہ امداد کی مجموعی مالیت تقریباً 3.8 ارب ڈالر بنتی ہے۔
نیتن یاہو امداد ختم کرنے کے خواہشمند تھے
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھی امریکی مالی امداد پر انحصار کم کرنے کی خواہش ظاہر کرچکے تھے۔ انہوں نے مئی 2026 میں امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکا کی جانب سے ملنے والی مالی امداد کو بتدریج صفر تک لانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اگلے 10 سال کے دوران امریکی مالی معاونت سے بتدریج خود کو آزاد کرنا چاہیے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو امداد کے بجائے شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہیے۔



