امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر ایران پر جوہری حملہ کر سکتے ہیں۔
ایکس پر جاری اپنے طویل بیان میں صحافی و تجزیہ نگار ٹکر کارلسن نے کہا کہ اسرائیلی الیکشن کے نتائج سے پریشان نیتن یاہو کو مشکلات سے بچنے کے لیے پھر ٹرمپ اور جنگ کی ضرورت ہے، اسرائیلی وزیراعظم ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے قریبی ساتھیوں پر ہر ممکن دباو ڈال رہے ہیں۔
ٹکر کارلسن کے مطابق ایران میں ’پک ایکس ماؤنٹین کے اندر موجود سرنگوں تک پہنچنے کے لیے امریکی روایتی ہتھیار مؤثر نہیں، اس لیے ایٹمی حملے کا آپشن زیرِ غور ہو سکتا ہے۔ نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملہ کر سکتی ہے۔
Under pressure from Israeli prime minister Benjamin Netanyahu, the Trump administration may be within days of launching a nuclear strike on Iran. The target would be Pickax Mountain in central Iran, where Israeli intelligence claims the Iranian government has restarted its nuclear enrichment program. No conventional weapon in the American arsenal can penetrate 300 feet of solid granite to destroy the tunnels where enrichment is supposedly taking place. The only military option is a nuclear strike. Netanyahu has been pushing hard for one. “Bibi calls Trump about it every day,” says an informed observer.
Netanyahu is cornered and desperate. After last week’s election results, he can’t form a government unless Trump intervenes directly in Israeli politics and brokers a deal with other parties that gives Netanyahu 61 seats in the Knesset. Otherwise, he is out as prime minister and on his way to ignominy, investigations and possibly jail. Netanyahu must stay close to Trump. He needs this war.
To that end, he’s applied maximum pressure to his closest allies in the administration, including Secretary of Defense Pete Hegseth and CENTCOM commander Brad Cooper. Both oppose a negotiated settlement to the war they’ve so grievously mismanaged; both are pushing to restart major combat operations. Secretary of State Marco Rubio and CIA director John Ratcliffe are also following Netanyahu’s lead, as are leaders of the Democratic Party. In a recent meeting on the subject, former president Barack Obama said he opposes the current Iran peace deal being drafted in Doha.
The rest of America’s longtime allies in the Middle East are terrified by the prospect of more war. On September 27th, Netanyahu flew secretly to Abu Dhabi to enlist the UAE in his lobbying effort for a final attack on Iran. The Emiratis refused. After eight months of conflict, Gulf economies are teetering. So are global energy and fertilizer markets. They won’t recover soon. Globally, there are a total of about 850 supertankers used to transport oil from producers to the rest of the world. In October alone, 11 of them were badly damaged in Hormuz. At this pace, a global depression is imminent. A nuclear strike would radically accelerate the destruction. Fallout from a ground explosion at Pickax Mountain would contaminate the Persian Gulf, poisoning the water supply for 100 million people.
And those are just some of the immediate consequences for the region. The rest of the world is every bit as exposed. No country other than the United States has ever used a nuclear weapon in war. Some would like to. An American nuclear attack on Iran would set a new precedent. The Russians have already told at least two other governments that an American nuclear strike on Iran would free them to use nuclear weapons against Ukraine. Pakistan and India would be tempted to do the same against each other, as would North Korea against Seoul. After the first nuclear strike, World War Three is inevitable. That war would be short and final.
We’ve been sleepwalking toward this moment for months. Since February, the administration has quietly rewritten America’s nuclear doctrine to make first use of so-called “battlefield nukes” easier and therefore more likely. No one in Washington in either party seems bothered by this. Now we’re on the brink of it.
Close observers say Trump is likely to decide by next weekend whether or not to use nuclear weapons. That would be November 7, six days from now. To his credit, he’s hesitating. At the moment, Trump is listening to his vice president, JD Vance, and to his envoy and friend Steve Witkoff, both of whom argue a deal with Iran can be made.
They’re right, though it won’t be simple. The Iranians are famously frustrating to negotiate with under any circumstances, and elements of that government have become more radical since Ayatollah Ali Khamenei and his family were killed in February. After decades of isolation, even relatively moderate Iranian leaders seem confused by how decisions are made in the West. (There is a widespread belief in Tehran, for example, that the United States government controls Israel.) But overall, people who have spoken to decision-makers in Iran say there is consensus there that more war is bad for everyone and a deal is worth making.
One group that hasn’t been consulted so far is the global population — the hundreds of millions of people who will be killed along with their children if Trump is pushed by Netanyahu into launching a nuclear strike next week. Now would be the time for them to speak up.
— Tucker Carlson (@TuckerCarlson) November 2, 2026
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے مگر پک ایکس ماؤنٹین سمیت اب صرف ایک یا دو مقامات باقی ہیں جن سے نمٹنا 10 منٹ کا کام ہے۔
چند روز پہلے بھی ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ پک ایکس ماؤنٹین کے لیے ان کے پاس فوجی منصوبہ موجود ہے اور وہاں فوری کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم انہوں نے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی منظوری دینے کا کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ دو ہفتے قبل ایک انٹرویو میں بھی ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔
ٹکر کارلسن نے اپنے بیان میں ایک نامعلوم باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر ٹرمپ کو روزانہ فون کرتے ہیں۔
امریکی صحافی کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ ایران نے اس مقام پر جوہری افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
’نیتن یاہو کو قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘
ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو مزید فوجی کارروائی کے لیے اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کو کنیسٹ میں 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ کی مداخلت درکار ہے، بصورت دیگر انہیں اقتدار سے محرومی، تحقیقات اور ممکنہ قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کارلسن نے کہا کہ نیتن یاہو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سمیت اعلیٰ امریکی حکام پر بھی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ان کا مزید دعویٰ تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی نیتن یاہو کے مؤقف کی پیروی کر رہے ہیں۔
کارلسن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما بھی دوحا میں کیے جانے والے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے مخالف تھے۔
امریکی اتحادیوں کو دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکانات پر تشویش
ٹکر کارلسن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادی بھی دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکانات پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے 27 ستمبر کو خفیہ طور پر ابوظہبی کا دورہ کیا تھا تاکہ متحدہ عرب امارات کو ایران پر آخری حملے کی حمایت کے لیے آمادہ کیا جا سکے، تاہم اماراتی حکام نے ان کی تجویز مسترد کر دی۔
کارلسن نے خبردار کیا کہ 8 ماہ سے جاری جنگ نے خلیجی ممالک کی معیشتوں کے ساتھ عالمی توانائی اور کھاد کی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ صرف اکتوبر میں آبنائے ہرمز کے اندر دنیا کے تقریباً 850 تیل بردار سپر ٹینکروں میں سے 11 کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ پک ایکس ماؤنٹین پر جوہری حملے سے خلیجی خطہ تابکاری کی زد میں آ سکتا ہے، جس سے تقریباً 10 کروڑ افراد کی پانی کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
’جوہری حملہ خطرناک عالمی مثال قائم کر سکتا ہے‘
کارلسن کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر جوہری حملہ خطرناک عالمی مثال قائم کر سکتا ہے، جس کے بعد روس یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے، بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری کشیدگی جنم لے سکتی ہے اور شمالی کوریا جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پہلے جوہری حملے کے بعد تیسری عالمی جنگ ناگزیر ہو جائے گی اور یہ جنگ مختصر مگر فیصلہ کن ہو گی۔
کارلسن نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فروری کے بعد سے امریکی جوہری پالیسی میں خاموشی سے تبدیلیاں کی ہیں، جن کا مقصد میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والے محدود یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال کو آسان اور زیادہ ممکن بنانا ہے۔
’جے ڈی وینس سفارتی کوششیں جاری رکھنا چاہتے ہیں‘
ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ 7 نومبر تک ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی منظوری دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف انہیں تہران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی کوششیں جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر جوہری حملے کے نتائج صرف اسی ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کے اثرات بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
ٹکر کارلسن کے یہ دعوے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہفتے کو فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مارالاگو کے باہر صحافیوں سے گفتگو کے بعد سامنے آئے ہیں، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات اب بھی ممکنہ اہداف ہیں اور امریکا انہیں 10 منٹ کے اندر نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے اسرائیلی اور امریکی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہفتے کو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ نیتن یاہو امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے حامی ہیں، جبکہ ٹرمپ سفارتی مذاکرات کو مزید موقع دینے کے خواہاں ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے حساس فوجی منصوبوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایران نے پک ایکس ماؤنٹین کے مقام پر کسی بھی جوہری سرگرمی کی تردید کی ہے، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر امریکا اور اسرائیل کو مزید حملوں کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔



