قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بڑی پیشرفت کا دعویٰ کر دیا۔
رائٹرز کے مطابق قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کسی ایسے سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں جس سے مستقبل میں وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق واشنگٹن اور تہران ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ اختلافات کم کرنے اور مشترکہ نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ دونوں فریق ثالثی کے عمل میں بدستور سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ قطر کی ثالثی ٹیم پیر کی شب تہران پہنچی تھی جو بعد ازاں دوحہ واپس آگئی تاہم اس واپسی کا مطلب سفارتی کوششوں کا خاتمہ نہیں بلکہ دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے اور مشاورت بدستور جاری ہے۔
قطری ترجمان نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ ممکن ہے جو آئندہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکے، ان کا کہنا تھا کہ خطے اور خلیجی ممالک میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، کشیدگی میں اضافہ
واضح رہے کہ 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ یہ تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور مذاکرات کے باوجود امریکی و اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران بھر میں سیکڑوں فضائی حملوں کے بعد شروع ہوا۔
حملوں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ ایرانی حکام بھی مارے گئے، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ یہ تنازع جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ اور 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد پیدا ہونے والی وسیع تر علاقائی کشیدگی کا تسلسل بھی ہے۔
ایران کا دو ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے
دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ساحلی علاقے بندر خمیر کے اوپر دو لوکاس ڈرونز مار گرائے ہیں، ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں فوجی سرگرمیاں اور کشیدگی بدستور جاری ہیں۔
ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک غیر مجاز راستے سے گزرنے والے تین آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے تاہم ان جہازوں کی شناخت، واقعے کی مکمل تفصیلات، نقصان اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا جہاز رانی میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خدشات پیدا کرسکتی ہے۔
ایران کا خلیجی ممالک کے ساتھ علاقائی سلامتی کا نظام قائم کرنے پر زور
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی قیادت میں ایک نئے علاقائی سلامتی کے نظام کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے خلاف کوئی دشمنی نہیں۔
الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران خطے کی سلامتی کی ذمہ داری علاقائی ممالک کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے غیر ملکی فوجی موجودگی کے بغیر مشترکہ سلامتی کا نظام قائم ہونا چاہیے۔
أكدتُ في حواري مع شبكة الجزيرة أننا لا نكنّ أي عداء لدول مجلس التعاون، ونثمّن الدور الإيجابي الذي تؤديه قطر وعُمان، ونواصل الحوار مع السعودية. هدفنا الوصول إلى ترتيبات أمنية إقليمية جديدة تقوم بها دول المنطقة نفسها، بعيدًا عن أي وجود عسكري أجنبي.
https://t.co/19ER3bOjoW
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) November 3, 2026
انہوں نے قطر اور عمان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ بھی رابطے اور مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے معاملات خود طے کرنے چاہئیں۔
عباس عراقچی کے مطابق ثالثوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کی مدت کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
قطر اور پاکستان سمیت علاقائی ثالث ایسے حل کی تلاش میں ہیں جس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں معمول کی تجارتی سرگرمیاں بحال کی جاسکیں اور اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔
عراقچی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں معمول کی جہاز رانی کی بحالی اور وسیع تر مذاکرات کے لیے قطر اور پاکستان سمیت مختلف ممالک سفارتی کوششیں کررہے ہیں۔
امریکا کے جزیرہ قشم پر محدود حملے، بڑی فوجی کارروائی کی تردید
دریں اثنا، امریکی افواج نے پیر کے روز ایران کے جزیرہ قشم پر محدود فوجی حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد ایرانی افواج کی جانب سے امریکی اثاثوں کے خلاف سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کا جواب دینا تھا۔
ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ان حملوں کو بڑی جنگی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھی ایران کے خلاف محدود حملے کیے، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کارروائیوں کو کم نمایاں رکھا گیا تاکہ امریکا کی جانب سے وسیع جنگ شروع کرنے کا تاثر پیدا نہ ہو۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے جزیرہ قشم پر دھماکوں کی اطلاع دی جبکہ فاکس نیوز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ حملے اس وقت کیے گئے جب ایرانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک امریکی طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم حملوں میں ہونے والے نقصان، تباہ ہونے والے اہداف اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
جے ڈی وینس کا ایران سے معاہدے کے امکانات پر اظہارِ امید
فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے سفارتی حل کے امکانات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکراتی معاہدے کے امکانات پر مثبت توقعات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے امکانات کے حوالے سے پُرامید ہیں تاہم ایران کو غیر متوقع رویہ رکھنے والا ملک قرار دیا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس فوجی اور غیر فوجی دونوں طرح کے آپشنز موجود ہیں اور انتظامیہ نے معاہدے کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ صدر ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کی اہمیت
جزیرہ قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو ایران کے جنوبی ساحل کے قریب آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ہے۔ اس جزیرے کو موجودہ تنازع میں خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران نے یہاں فوجی تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جن میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل، بارودی سرنگیں، ڈرونز اور حملہ آور کشتیاں شامل ہیں۔
ان میں سے بعض فوجی تنصیبات زیر زمین موجود ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی وجہ سے جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز موجودہ جنگی اور سفارتی صورتحال میں اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔
مجموعی طور پر تازہ صورتحال میں ایک جانب محدود فوجی حملے، ڈرونز مار گرانے اور سمندری بارودی سرنگوں سے متعلق اطلاعات سامنے آرہی ہیں تو دوسری جانب قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے جنگ کا دائرہ مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔
قطر کی جانب سے معاہدے کی امید، ایران کا علاقائی سلامتی کے نئے نظام کا مطالبہ اور امریکی قیادت کے مذاکرات کے حوالے سے مثبت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فوجی کشیدگی کے باوجود سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی کسی ممکنہ معاہدے کی راہ میں اہم چیلنجز ہیں۔



