آئی سی سی نےلارڈزاورقذافی اسٹیڈیم کی پچزکوغیرتسلی بخش قراردے دیا،مانیٹرنگ پراسیس کےتحت دونوں اسٹیڈیمزکو1-1 ڈی میرٹ پوائنٹ دیدیا گیا۔
کارروائی انگلینڈ نیوزی لینڈ ٹیسٹ اورلاہورکےتیسرے ون ڈےمیچ کی پچزکیخلاف کی گئی، آئی سی سی کے مطابق میچ ریفری اینڈریوپائیکرافٹ اورگرائم لابروئے نے رپورٹس جمع کرائیں۔رپورٹس میں میچ آفیشلزاورکپتانوں کےتحفظات کاذکر کیا گیا ہے۔
کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں،آئی سی سی نے منظوری دیدی
اینڈی پائیکرافٹ کے مطابق لارڈز ٹیسٹ کےدوران پچ پرزیادہ سیم موومنٹ دیکھی گئی اورگیند نیچی رہی،لارڈزپچ کاباؤنس غیرمستقل تھا،پہلےدن 16اوردوسرےدن17وکٹیں گریں۔
دوسری جانب میچ ریفری گرائم لا بروئے کے مطابق قذافی اسٹیڈیم کی پچ سلواورلوتھی جس سےرنز بناناانتہائی مشکل تھا،قذافی اسٹیڈیم کی پچ ون ڈےمیچ کےمعیارکےمطابق نہیں تھی،بلے بازوں کوپچ پرسیٹ ہونےکیلئے بہت زیادہ وقت درکار تھا۔
آئی سی سی کے جنرل منیجر وسیم خان کا عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ
آغاز سےہی پچ نےاسپنرزکومددفراہم کی اوریہی صورتحال برقراررہی،آئی سی سی نےرپورٹس ای سی بی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھیج دیں،دونوں کرکٹ بورڈزکےپاس سزاکےخلاف اپیل کیلئے 14 دن کا وقت ہے۔
