عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
العربیہ انگریزی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکراتی عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات تین مراحل میں کیے جائیں۔ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، دوسرے مرحلے میں ایران کے منجمد اثاثوں اور تیسرے مرحلے میں جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے متبادل کسی نئی راہداری کی تجویز کو مسترد کرتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست مذاکرات ہوئے۔ بعد ازاں مذاکرات کا دوسرا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہوا، جبکہ تیسرا دور اسلام آباد میں ہونا تھا۔
تاہم مجوزہ تیسرے دور سے قبل دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیئے اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون معاہدے کی منظوری دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران پہلے سے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے، جبکہ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے کیے، تاہم ایران اب بھی سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے حل کے لیے تیار ہے۔
