پشاور ہائیکورٹ نے قائداعظم نامی شہری درخواست گزار کی دبئی سے ڈی پورٹیشن روک دی۔
پشاور ہائیکورٹ میں قائداعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس عنایت اللہ خان نے کی۔
افغان شہریوں کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام، نادرا کے 3 افسران گرفتار
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار کا پاکستان اور دبئی میں کاروبار ہے، درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر لیگل نادرا کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک ہونے کی بنیاد پر بلاک کیا گیا ہے۔
عدالت نے آئندہ سماعت تک درخواست گزار کی دبئی سے ڈی پورٹیشن روکتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہو جائیں پھر اس کیس کا فیصلہ کریں گے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں سے جڑے 60 ہزار سے زائد مشکوک قومی شناختی کارڈز کا انکشاف ہوا ہے ، نادرا نےواپس جانے والے افغان مہاجرین کے شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال شروع کردی۔
نادرا نے شناختی کارڈ اور ب فارم بنوانے والوں کو نئی گائیڈ لائنز دے دیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ واپس جانے والے ہر افغان مہاجر کے بائیو میٹرک،اے سی ار اور پی او ار کارڈ کی سکیننگ جاری ہے،افغان مہاجرین کوفیملی ٹری میں شامل کرنے والےمقامی باشندوں کی تلاش بھی جاری ہے۔
نادرا ذرائع کے مطابق بعض مقامی شہری فراڈ کا شکار ہوئے،کسی نے دانستہ طور اپنے خاندان میں شامل کیا،نادرا آرڈیننس کے تحت مشکوک اندراج پر مقامی شہریوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
افغان مہاجرین کے ساتھ منسلک ریکارڈ پر مقامی ہزاروں خاندانوں کو بھی نوٹس جاری کردیے گئے،10 سے زائد افغان مہاجرین کے ساتھ منسلک مقامی خاندان کا ریکارڈ فریزکیا جائے گا۔
نادرا نے نئی جدید ویب سائٹ متعارف کرا دی
ذرائع کے مطابق ایک سال کے دوران،جعل سازی میں ملوث 300 سے زائد نادرا اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوئی،اہلکاروں کے کئی کیس خود پکڑ کر ایف ائی اے کے حوالے کے گئے۔
