آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پولنگ کا عمل “پر امن طریقے سے” اختتام پذیر ہو چکا ہے، جہاں میرپور شہر کے پولنگ اسٹیشنز کے علاوہ ڈویژن کے بیشتر اسٹینشنز پر ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پولنگ کے دوران ایل اے-9 نکیال میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق بھی ہوا۔
پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ” حلقہ ایل اے-9 نکیال میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار عمیر نعیم کی جانب سے اسلحے کی نمائش اور عوام کو ہراساں کرنے کے واقعات کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن مختار یونس ولد کامران جاں بحق ہو گئے ہیں۔”
ایل اے-9 نکیال میں پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن مختار یونس ولد کامران کے قتل کا واقعہ، ذمہ داروں کو فوری گرفتار کیا جائے، سردار عبدالشکور، انچارج الیکشن سیل، پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر
مظفرآباد: پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن سیل کے انچارج سردار… pic.twitter.com/j2z1gvp0hb
— Pakistan Peoples Party – PPP (@PPP_Org) July 27, 2026
میرپور ڈویژن تین اضلاع میر پور، کوٹلی اور بھمبھر، اور 13 حلقوں پر مشتمل ہے ۔ الیکشن میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، استحکامِ پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں سمیت 288 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
یہاں پولنگ ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب لگ بھگ 2 ماہ سے راولاکوٹ میں احتجاجی دھرنے میں بیٹھی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے ۔ مارچ میں میرپور اور راولاکوٹ ڈویژن سے مظاہرین شامل ہیں اور اس کا اعلان کمیٹی نے ہفتے کے روز حکومتی نمائندوں کیساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا تھا۔
یہ کمیٹی 2023 میں 38 مطالبات پر مشتمل ایک چارٹر آف ڈیمانڈ کیساتھ سامنے آئی، جس کے بیشتر مطالبات بشمول آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کو حکومت نے مئی 2024 میں کیے گئے لانگ مارچ کے بعد منظور کر لیا تھا۔ باقی کے مطالبات کی منظوری تعطل کا شکار تھی جن میں اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، الیکشن اصلاحات، اور مہاجروں کی 12 نشستوں کا خاتمہ شامل ہیں۔
ان مطالبات کی منظوری کے لیے 9 جون کو ایک اور لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا، تاہم اس سے 4 دن قبل ایک جلسے سے واپسی پر کمیٹی کے ایک کور ممبر پر حملہ ہو گیا، جس کے بعد خطے میں صورتحال بگڑ گئی اور مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 30 کے قریب جانوں کا نقصان ہوا۔
راولاکوٹ میں متعدد مقامات پر مظاہرین 9 جون سے دھرنے دیے بیٹھے ہیں اور ان کے مطالبات میں کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے، جاں بحق مظاہرین کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے، اور مظاہرین کے خلاف درج کیے گئے مقدمات ختم کرنے جیسے نکات کا اضافہ ہو گیا ہے۔
View this post on Instagram
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز اور تصاویر میں راولاکوٹ میں دریک اور متیالمرہ کے مقام پر جمع لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق لانگ مارچ آج سہہ پہر کو مظفرآباد کی جانب روانہ ہونا تھا، تاہم بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ آج رات مظاہرین ریاست کے دیگر علاقوں سے راولاکوٹ میں ہی جمع ہوں، اور اگلی صبح مظفرآباد روانگی ہو۔
میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں پولنگ کے لیے 2 ہزار 316 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 14 لاکھ ، ایک ہزار 439 ہے۔ پولنگ کے دوران پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے کے پولنگ کیمپ خالی ہونے کے الزامات لگاتے رہے۔
ایل اے 3 میرپور سے ن لیگ کا اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے دانشمدانہ فیصلہ، کیمپ بند کرکے کارکنان آرام کرنے گھر روانہ pic.twitter.com/S7psoeB11k
— Pakistan Peoples Party – PPP (@PPP_Org) July 27, 2026
ضلع میرپور سے ہم نیوز کے نمائندے کا کہنا ہے کہ حلقہ ایل اے 3 شہر میں تقریبا سارے پولنگ اسٹیشن میں ٹرن آوٹ بہتر رہا۔ گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول نمبر 2 میں 4 پولنگ بوتھ قائم ہیں جہاں 3200 سے زائد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا، اس کے علاوہ غازی الہی بخش وارڈ نمبر 4 میں بھی 4 بوتھ ہیں اور یہاں بھی اچھا ٹرن آوٹ دیکھنے کو ملا۔
اسی طرح ضلع بھمبر میں موجود ہم نیوز کے نمائندے کے مطابق بھبر کے تینوں حلقوں، ایل اے 5 برنالہ، ایل اے 6 سماہنی، اور ایل اے 7 بھمبر میں نسبتاً کم لوگوں کی تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے نکلی۔ ان کے اندازے کے مطابق تینوں حلقوں میں پولنگ ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ نہیں رہا۔
پاکستان مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جو اس وقت سب سے زیادہ یوتھ کیلئے کام کر رہی ہے، طلباء کو لیپ ٹاپ اور سکالرشپ دئیے جا رہے ہیں اور مریم نواز صاحبہ نے بسوں کا تحفہ بھی دیا ہے اس وجہ سے ہم نے ن لیگ کو ووٹ دیا ہے۔#MirpurSherKa pic.twitter.com/i3mCV0nszq
— PMLN (@pmln_org) July 27, 2026
ڈویژن کے تیسرے ضلع کوٹلی میں 6 حلقے ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق ووٹنگ کے لیے باقی اضلاع کی نسبت سب سے کم تعداد میں لوگوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا۔ ہم نیوز کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ضلع کے اکثریتی پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ٹرن آؤٹ مایوس کن رہا۔ اس ضلع سے بڑی تعداد میں شہری لانگ مارچ میں شرکت کے لیے راولاکوٹ کا رخ کر چکے ہیں۔
میرپور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کچھ پولنگ اسٹیشنز کو آگ لگانے اور لڑائی جھگڑے کی رپورٹس کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی جی آزاد کشمیر پولیس کا کہنا تھا کہ ہر پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کی نفری موجود تھی، لیکن کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں کیوک ریسپانس فورس فوراً موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کرتی ہے، ان پولنگ اسٹیشنز پر بھی ان فورسز نے فوراً کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک لڑائی جھگڑے کی بات ہے تو اس طرح کے پراسیس میں لڑائی جھگڑا روٹین کی بات ہے۔ “جو بھی بندہ الیکشن میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریگا، کسی کا بھی جماعت سے اس کا تعلق ہو، ہم اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔”
View this post on Instagram
ووٹنگ ٹرن آؤٹ کے حوالے سے آئی جی کا کہنا تھا کہ “عام طور پر ووٹنگ کا عمل 2، 3 بجے کے بعد زور پکڑتا ہے، لوگوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ 5 بجے پولنگ کا ٹائم ختم ہونے سے 15 منٹ قبل لوگ بھر لیں، تاکہ آخری ٹائم آپ کا ووٹ کاسٹ ہو۔”
“کچھ لوگ صبح 8 بجے آکر ووٹ ڈال جاتے ہیں، کچھ لوگ تھوڑا لیٹ آتے ہیں، یہ لوگوں کی اپنی رائے ہے، میں لوگوں کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ لازمی آ کر ووٹ دیں۔ لوگ رضاکارانہ طور پر آرہے ہیں، اور اپنے ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں، یہ سیاسی عمل کا حصہ ہے۔”
یاد رہے کہ لگ بھگ 2 ماہ سے جاری کالعدم ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک کے باعث آزاد کشمیر الیکشن کمیشنر نے انتخابات کو 3 حصوں میں کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ میرپور میں پہلے مرحلے کے بعد انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلہ میں مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں پولنگ بالترتیب 2 اور 10 اگست کو ہوگی۔
