امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی کے بعد عالمی منڈی میں پیر کو سونے کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,110.56 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر ایک فیصد کے اضافے کے بعد 4,112.10 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔
دوسری جانب امریکی ڈالر انڈیکس 0.3 فیصد گر گیا، جس سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہو گیا۔
سونا مزید مہنگا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
سونے کے برعکس دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 2.8 فیصد بڑھ کر 59.81 ڈالر، پلاٹینم 2.6 فیصد اضافے سے 1,629.15 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 2.1 فیصد بڑھ کر 1,269.43 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گئی ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جس کے بعد قیمت 84 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جو حالیہ دنوں کی بڑی یومیہ کمی میں شمار کی جا رہی ہے۔
اسی طرح عالمی معیار سمجھے جانے والے برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بھی 4.86 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔ مربان آئل 9.44 فیصد سستا ہو کر 97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جسے خلیجی منڈی میں نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک دن مہنگا ہونے کےبعد سونا آج پھر سستا ہوگیا
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی معیشت، ایندھن کی طلب، اوپیک پلس کی پیداوار اور جغرافیائی سیاسی حالات آئندہ ہفتوں میں تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والے اہم عوامل رہیں گے
