مشیروزیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ واریا15دن بعد تبدیلی سے زیادہ بوجھ پڑتاہے،روزانہ کی بنیاد پر چھوٹی تبدیلی زیادہ بہتر ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہوگا تو ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوگی ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے معاملے پر مشاورت جاری ہے ۔
حکومت کا پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے بارے میں اہم اعلان
خرم شہزاد کا مزید کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم ہوتی ہیں تویہ فارمولا زیادہ مفید ہوگا۔
ایک ہفتے میں پیٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے مہنگا
روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے فیصلے کے بعد ایک ہفتے کے دوران اب تک پیٹرول 20 روپے 81 پیسے اور ڈیزل 55 روپے 36 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے 18 جولائی سے پیٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔اس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین 21 جولائی کو ہوا جس میں پٹرول 35 پیسے سستا جبکہ ڈیزل 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
22 جولائی کیلئے پیٹرول 4 روپے 93 پیسے اور ڈیزل 7 روپے 15 پیسے مہنگا کیا گیا جبکہ 23 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔
24 جولائی کو بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ، پیٹرول کی قیمت 4 روپے 40 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی۔
قیمتیں بڑھنے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
واضح رہے 17 جولائی کو کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اوگرا یومیہ بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کا فیصلہ کرے گی، اوگرا یومیہ بنیاد پر عالمی منڈی کو مدنظر رکھ کر قیمتوں کا تعین کرے گی۔
