سابق امریکی صدر باراک اوباما نے امریکی انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کا پیغام دیا۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے مطابق ری پبلکن کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی برتری کھو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس کیساتھ مل کر کام کروں گا۔
ایکس پر جاری بیان میں باراک اوباما کا کہنا تھا کہ عوام ایسی سیاست چاہتے ہیں جو تقسیم کے بجائے لوگوں کو متحد کرے، عوام چاہتے ہیں رہنما درپیش مسائل کا عملی حل پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی ملک کے ہر حصے سے بہترین امیدواروں کے میدان میں آنے کی بدولت ممکن ہوئی، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں کامیابی کو پہلے مشکل تصور کیا جاتا تھا۔
Tonight, the American people sent a clear message — they want a politics that brings people together rather than divides them, and leaders who offer concrete solutions to the challenges they face.
These results were only possible because outstanding candidates stepped forward in every region of the country — including in areas once considered long shots. They came from different backgrounds and represented a range of political perspectives, but were united by shared values, a belief in public service, and a commitment to putting the people of their districts and states first.
We also owe a debt of gratitude to the thousands of election officials and volunteers from both parties who helped ensure a smooth election and carried out one of the most essential functions of our democracy.
While this administration has another two years in office, our job now is to roll up our sleeves, make changes wherever we have the power to do so, prevent further damage, and lay the groundwork for the future.
— Barack Obama (@BarackObama) November 4, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ امیدواروں کا تعلق مختلف پس منظر اور سیاسی نظریات سے تھا، تاہم وہ مشترکہ اقدار، عوامی خدمت کے جذبے ، اپنے حلقوں اور ریاستوں کے عوام کو اولین ترجیح دینے کے عزم پر متحد تھے۔
سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے پاس ابھی مزید 2 سال اقتدار میں رہنے کا وقت ہے، تبدیلیاں لانے اور مزید نقصان روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
باراک اوباما نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں انتخابی عہدیداروں اور رضاکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے انتخابات کے شفاف اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے اور جمہوریت کے اہم فریضے کی انجام دہی میں کردار ادا کیا۔
خیال رہے چند روز قبل باراک اوباما نے اوہائیو میں ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے دوران خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا بیانیہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا لیکن ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے۔
باراک اوباما کا کہنا تھا کہ موجودہ صدر نے متعدد غلط فیصلے کیے جن میں سب سے اہم غیر ضروری جنگ شروع کرنے کا فیصلہ تھا۔”یہ لوگ سنجیدہ نہیں ہیں، بالکل بھی سنجیدہ نہیں۔ ان کی غیر سنجیدگی کی قیمت بالآخر آپ کو چکانا پڑتی ہے۔“



