ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار ایران میں رجیم چینج کی بات کر چکے ہیں اور ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب بھی دیتے رہے ہیں لیکن مڈٹرم الیکشن میں شکست سے انہیں اب اپنے ہی ملک میں اقتدار کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کے خدشے کا سامنا ہے۔
امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 197 اور ریپبلکن کے 114 ارکان کو برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں 53 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ریپبلکن پارٹی کی مڈٹرم انتخابات میں خراب کارکردگی کی ایک وجہ بنی تاہم انہوں نے جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔
’ریپبلکنز کی خراب کارکردگی کی ایک وجہ ایران جنگ بھی ہے‘
وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ بھی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں شامل تھی۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایران جنگ نے ریپبلکنز کی انتخابی کارکردگی کو متاثر کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ایران بھی اس کی ایک وجہ تھا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہیں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں اور اگر انہیں دوبارہ ایسا فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو وہ یہی کریں گے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران جنگ کے مقابلے میں تیل اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ریپبلکن امیدواروں کو زیادہ سیاسی نقصان پہنچایا۔ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی ووٹرز میں ناراضی بڑھی۔
مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کو کنساس، ساؤتھ کیرولائنا اور ٹیکساس سمیت ان ریاستوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جہاں روایتی طور پر ان کی پوزیشن مضبوط رہی ہے۔
ٹرمپ نے بعض ریپبلکن امیدواروں کی کمزور کارکردگی کا اعتراف کیا، تاہم کہا کہ انہوں نے ان کی کامیابی کے لیے مدد کی کوشش کی تھی۔
’ضرورت پڑنے پر ویٹو کا اختیار استعمال کروں گا‘
انٹرویو میں ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ان کی انتظامیہ میں کسی اہم عہدیدار کو تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی تاہم کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کریں گے۔
انتخابی نتائج نے ریپبلکن پارٹی کے لیے کانگریس میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے حوالے سے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اور اس کے معاشی اثرات اب امریکی سیاست اور حکومت سازی کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ریاستوں ورمونٹ، ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، جورجیا، فلوریڈا، الینوائے، الاباما سمیت مختلف ریاستوں کے کئی علاقوں میں مڈ ٹرم الیکشن کی پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس امیدواروں کو ریپبلکنز پر سبقت حاصل ہے۔ 435 رکنی ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار ہے۔
تازہ دستیاب اطلاعات کے مطابق ڈیموکریٹس نے آئیووا میں 3 نشستوں سمیت ریپبلکنز سے کئی نشستیں حاصل کی ہیں اور ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ تاہم ابھی تمام نشستوں پر کامیابی کا اعلان نہیں ہوا۔
سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے 35 پر انتخابات ہوئے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، کنساس، ساؤتھ کیرولائنا، شمالی کیرولائنا اور اوہائیو میں ریپبلکنز سے نشستیں چھین کر سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔



