وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا میں امن و امان، سکیورٹی صورتحال اور استحکام سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے گورنر ہاؤس پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس جاری ہے ۔
ایپکس کمیٹی کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد نئے سیاسی، سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
گورنر ہاؤس کے ذرائع کے مطابق جرگہ ہال میں ہونے والے اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہیں۔اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور رانا ثناء اللہ کے علاوہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، کور کمانڈر پشاور، صوبائی مشیران بھی موجود ہیں۔
11 اکتوبر کو صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کی وجہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے مبینہ طور پر ناکافی تعاون کو قرار دیا تھا۔
گورنرراج کے نفاذ کے بعد انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوگئے تھے۔وفاقی حکومت نے گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کے قیام کا اعلان بھی کیا تھا جبکہ دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے الگ ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا۔
ان اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، اپر جنوبی وزیرستان، لوئر جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔
وفاقی حکومت نے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی تعیناتی کی بھی منظوری دی تھی۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدامات کو پارلیمانی منظوری کے لیے بھی پیش کیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 14 اکتوبر کو ان کی توثیق کی جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے 15 اکتوبر کو اپوزیشن کے احتجاج کے دوران 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے قرارداد منظور کرلی تھی۔
17 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے جرگہ مشاورت کے بعد 12 متعلقہ اضلاع کے لیے علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے 48 ارکان بھی مقرر کیے تھے۔
دوسری جانب ان اقدامات کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ عدالت نے 20 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
21 اکتوبر کو عدالت نے سہیل آفریدی کے اہل خانہ کی جانب سے مبینہ غیر قانونی حراست کے الزامات کے بعد اعلیٰ صوبائی حکام سے ان کے مقام اور قانونی حیثیت سے متعلق رپورٹس طلب کی تھیں۔ اس مقدمے کی سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ:صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں


