پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ اور پارلیمنٹ سے اس کی توثیق کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
وفاقی کابینہ نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دی،اسی روز صدر آصف زرداری نے کابینہ کی سمری پر دستخط کیے جبکہ 14 اکتوبر کو قومی اسمبلی و سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی باضابطہ توثیق کی۔
اس معاملے پر پارلیمان میں صوبے کی سکیورٹی صورت حال، سیاسی مذاکرات اور وفاقی حکومت کے فیصلے پر گرما گرم بحث بھی ہوئی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کو صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی رابطے دوبارہ شروع کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا تھا۔
پشاور ہائیکورٹ میں جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے آج درخواستوں کی سماعت کی جس میں درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ سکیورٹی وجوہات کے بجائے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا۔
درخواست گزاروں کے وکلا نے دلائل دیے کہ ایمرجنسی صرف جنگ یا بیرونی جارحیت کی صورت میں نافذ کی جاسکتی ہے جبکہ ان کے مطابق صوبے میں ایسی کوئی صورت حال موجود نہیں تھی۔
وکلا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنا صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب صوبے میں عسکریت پسندوں کے حملے عروج پر تھے تو اس وقت ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی گئی؟
درخواست گزاروں کے وکلا کا مزید کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کا اطلاق اسی وقت ہوسکتا ہے جب صوبائی حکومت امور چلانے کے قابل نہ رہے۔ ان کے مطابق صوبائی اسمبلی اور حکومت کام کررہی تھیں اور آئینی نظام کے تعطل کی کوئی صورت حال نہیں تھی جس کی بنیاد پر گورنر راج نافذ کیا جاتا۔
بعدازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
’سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے وکلا نے کیا کہا؟‘
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہے اور ان میں سے کسی بھی اقدام کے تحت وزیراعلیٰ کے اختیارات محض واپس نہیں لیے جاسکتے۔
بیرسٹر سمیر کھوسہ نے الزام عائد کیا کہ گورنر راج صرف سیاسی مقاصد کے لیے نافذ کیا گیا، حالانکہ صوبہ آئین کے مطابق چل رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو غیرقانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مقصد دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے تو کارروائی اسی مقصد تک محدود ہونی چاہیے نہ کہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف کی جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی، دونوں اقدامات کو عدالت میں چیلنج کیا ہے اور لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔
ان کے مطابق عدالت نے درخواست گزاروں کو 10 دن دیے ہیں اور انہیں امید ہے کہ انصاف فراہم کیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبائی حکومت کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کی صورت حال زیادہ سنگین ہونے کے باوجود وہاں ایسے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟
انہوں نے علیمہ خان کی حراست، پی ٹی آئی کے انتخابی نشانات ختم کیے جانے اور پارٹی کے صوبائی ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں پر بھی سوالات اٹھائے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے معاملات بھی بلوچستان کی طرح صوبے کی اپنی حکومت اور عوام کو چلانے چاہییں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خیبر پختونخوا کو پنجاب کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہو اور صوبے کی روایات اور سیاسی اقدار کو نظرانداز کیا گیا ہو۔



