مغربی افریقی ملک سینیگال کے ساحل کے قریب غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک شخص کو زندہ بچا لیا گیا۔ کئی افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
سینیگال کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے کا واقعہ اس سمندری راستے پر پیش آنے والا پہلا حادثہ نہیں۔ اس سے قبل بھی کشتیوں کے ڈوبنے کے حادثات رونما ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2020 میں سینیگال کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 140 سے زائد افراد جبکہ فروری 2024 میں شمالی سینیگال کے ساحل پر کشتی کے حادثے میں 26 افراد جان سے گئے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینیگال کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ کشتی کو حادثہ دارالحکومت ڈاکار سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال میں واقع کیبیمیر شہر کے ساحل کے قریب پیش آیا۔ امدادی ٹیموں نے سمندر سے 21 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں۔
A small boat carrying migrants and refugees has sunk off northwestern Senegal, killing at least 21 people.
The Senegalese Interior Ministry said the death toll was “provisional,” adding that the search was still ongoing.
🔗 : https://t.co/qBLKW38Usb https://t.co/S9QdQeduiB
— Al Jazeera English (@AJEnglish) November 8, 2026
وزارت داخلہ نے کہا کہ کشتی میں سوار افراد غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک جانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم کشتی میں موجود افراد کی مجموعی تعداد تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔
تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم واکنگ بارڈرز کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران مغربی افریقا سے اسپین کے جزائر کینری پہنچنے کی کوشش میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 635 افراد بھی شامل ہیں۔
