صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق 21 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 40 زخمی افراد میں سے 20 بچوں کی حالت تشویشناک ہے جن کو شدید چوٹیں آئی ہیں اوربیشترکو آئی سی یو میں منتقل کیا گیا ہے۔
موقع پرامدادی کارروائیوں میں مصروف ریسکیو حکام نے متعدد بچوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
View this post on Instagram
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبے بچوں کونکالنے کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ زخمی بچوں اور ٹیچرز کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسپتال ترجمان نے ہم نیوز کو 21 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ریسکیو حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید افراد کے ملبے تلے ہونے کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
View this post on Instagram
مشیر تعلیم خیبر پختونخوا اور سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے سانحے پر اظہارافسوس کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی اور 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
ایم ڈی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو فوری طور پر متاثرہ جگہ پہنچنے اور کمیٹی کو حادثے کے حقائق کا جائزہ لے کر ایک روز میں رپورٹ پیش کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
چھت گری کیسے؟
ہم نیوز کے پشاور بیورو چیف کے مطابق یہ پرائیویٹ اسکول دیر کالونی میں رنگ روڈ پر واقع ہے جس کی عمارت تو ایک منزلہ ہی ہے لیکن چھت پر بھی کچھ کمرے بنائے گئے تھے۔ واقعے میں 2 کلاس رومز مکمل منہدم ہو گئے ۔
ان کے مطابق چھت گرنے سے چھٹی اور ساتویں کلاس کے بچے زیادہ متاثر ہوئے جن کی عمریں 11 سے 14 سال کے درمیان ہو سکتی ہیں، تاہم اسکول اور متاثرہ کلاس رومز میں بچوں کی ممکنہ تعداد کنفرم نہیں ہو سکی ہے۔
چھت گرنے کی ممکنہ وجوہات کے بارے میں موقع پر موجود ہم نیوز کی رپورٹر علیشبہ خٹک کا کہنا ہے کہ عمارت کی حالت اچھی نہیں تھی جو حالیہ بارشوں کے باعث مخدوش ہوئی اور اس افسوسناک حادثے کی وجہ بنی۔
موقع سے رپورٹنگ کرنے والے ہم نیوز کے نمائندے انور زیب کے مطابق یہ حادثہ ایک گنجان آباد علاقے میں صبح 9 بجے کے قریب پیش آیا جس کے بعد بچوں کے لواحقین اور مقامی افراد کی بڑی تعداد فوراً موقع پر پہنچی اور ریسکیو حکام کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔
جائے وقوعہ پر مقامی افراد کی رش کی وجہ سے ریسکیو حکام کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ تنگ سڑکوں اور زیادہ ٹریفک کی وجہ سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے واقعے میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کےلواحقین سے اظہارتعزیت کیا ہے ، انہوں نے امدادی کارروائیاں بھی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی جاں بحق بچوں کےلواحقین سے اظہارتعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کو فور ی امداد فراہمی کی ہدایت کی ہے۔
مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے دیر کالونی پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس مشکل گھڑی میں اپنے لوگوں کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے زخمی بچوں کو بہترین اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی بروقت امدادی کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں۔ ملبے تلے دبے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
رواں سال اسکولوں کی چھتیں گرنے کے 4 بڑے حادثات
رواں سال ملک میں اسکولوں کی چھتیں گرنے کے 4 بڑے حادثات پیش آچکے ہیں جو سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان اور لاہور میں رونما ہوئے۔
21 فروری 2026 کو سیالکوٹ میں زیر تعمیر سرکاری گرلز ہائی اسکول کا شیڈ گرنے سے آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ جاں بحق ہوئی، 7 مئی 2026 کو ڈیرہ غازی خان میں نجی اسکول کے کلاس روم کی چھت گرنے سے 4 طلبہ جاں بحق ہوئے۔
30 جون 2026 کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ 2 جولائی 2026 کو لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں زیر تعمیر اسکول کی عمارت کا ایک حصہ گرنے سے 8 سالہ بچہ جاں بحق ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ:یہ ابتدائی خبر ہے، مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔
