اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بڑے سیاسی حریف اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوت کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔
یہ فیصلہ 27 اکتوبر کے انتخابات میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
نیتن یاہو کی مذہبی قوم پرست اتحادی حکومت انتخابات میں اکثریت کھو بیٹھی، تاہم ان کا اتحاد پارلیمان میں سب سے بڑا بلاک بن کر ابھرا۔ اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو اب بھی اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر آئزک ہرزوگ کے ترجمان نے کہا کہ صدر نے گادی آئزنکوت کو صدارتی رہائش گاہ پر مدعو کیا ہے جہاں انہیں حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ اسرائیل میں صدر کا کردار زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے اور انتخابات کے بعد وہ کسی امیدوار کو اتحادی حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق آئزنکوت نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے سے انکار کیا ہے، حالانکہ ان کی حمایت سے انہیں پارلیمان میں اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔ تاہم عرب جماعتوں کے رہنماؤں نے نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی پالیسیوں کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے آئزنکوت کی حمایت میں انہیں حکومت بنانے کی کوشش کا پہلا موقع دینے کی سفارش کی۔
זו העת להקמת ממשלת חירום לאומית.
אעשה הכל כדי שנהיה ראויים 🇮🇱 https://t.co/18Q3eIE6g0— Gadi Eisenkot – גדי איזנקוט (@gadi_eisenkot) November 7, 2026
آئزنکوت نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ اب ’قومی ہنگامی حکومت‘ بنانے کا وقت ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ اس ذمہ داری کے اہل ثابت ہوں۔
آئزن کوت مسئلہ فلسطین پر کن خیالات کے مالک ہیں؟
66 سالہ گادی آئزن کوت مراکشی تارکینِ وطن کے بیٹے ہیں۔ اگر وہ وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے تو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی برادری، جسے میزراحی کہا جاتا ہے، سے تعلق رکھنے والے اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق آئزن کوت کم گو اور میڈیا سے دور رہنے والی شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور انہوں نے 2022 میں سیاست میں قدم رکھا۔ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد وہ مختصر عرصے کے لیے نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کا حصہ رہے، تاہم بعد میں اپوزیشن میں واپس چلے گئے۔
اپوزیشن میں رہتے ہوئے انہوں نے غزہ میں فوجی کارروائیوں سمیت مختلف معاملات پر نیتن یاہو کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ حکومت میں شامل نہ ہونے کا عہد کیا۔ 2023 کے بعد غزہ میں لڑائی کے دوران آئزن کوت کے ایک بیٹے اور 2 بھتیجوں کی ہلاکت نے بھی ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا۔
حماس کے خاتمے کا عزم
آئزنکوت نے انتخابی مہم کے دوران وعدے کیے کہ اگر وہ وزیرِ اعظم بنتے ہیں تو 18 ماہ کے اندر حماس کی حکومت اور اس کے فوجی ونگ کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔ اس کے لیے وہ یا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے (جس میں حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہے) پر عمل کریں گے یا پھر سخت فوجی آپریشنز کا سہارا لیں گے۔
ان کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کی ناقص حکمتِ عملی کی وجہ سے حماس اقتدار میں برقرار ہے۔
ולכן נחליף אותך. https://t.co/Q01Td0coVx
— Gadi Eisenkot – גדי איזנקוט (@gadi_eisenkot) November 7, 2026
یاد رہے کہ آئزنکوت کو فوجی حلقوں میں ’داحیہ ڈاکٹرائن‘ کا بانی مانا جاتا ہے جس کو انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی نمایاں طور پر پیش کیا۔ اس نظریے کے تحت وہ ’دشمن‘ کے حملے کے جواب میں بے پناہ اور غیر متناسب فوجی طاقت استعمال کرنے اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی وکالت کرتے ہیں۔
انہوں نے 2006 میں لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ کے دوران حزب اللہ کے خلاف فوجی کمانڈر کی حیثیت سے یہ حکمتِ عملی استعمال کی تھی اور اسی سوچ کے تابع وہ غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کی بھی مکمل حمایت کی ہے۔
مغربی کنارے پر یہودی آبادکاری کی حمایت
نامزد وزیر اعظم دریائے اردن سے بحیرہ روم کے درمیان تمام علاقے پر اسرائیل کے حتمی فوجی و سیکورٹی کنٹرول کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔ تاہم، وہ مغربی کنارے کے اسرائیل سے ’مکمل الحاق‘ کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کے تمام فلسطینیوں پر مستقل کنٹرول رکھا تو اسرائیل ایک ’دو قومی ریاست‘ بن جائے گا، جو ان کے بقول ’صیہونی ریاست کے وژن‘ کے خلاف ہے۔
اسی لیے وہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو الگ تھلگ کر کے ’فلسطینی اتھارٹی‘ بنانے کی بات کرتے ہیں جسے صرف سول انتظامی امور سنبھالنے دیے جائیں، جبکہ بیرونی اور سیکورٹی کنٹرول مکمل طور پر اسرائیل کے پاس رہے۔
מה שקורה ביו״ש זה טרור יהודי בחסות ממשלת ישראל.
פעם נוספת, בתוך יממה אחת בלבד, חוליות של פורעי חוק אלימים תוקפות אזרחים זרים – והפעם דיפלומטים ובעלי תפקידים רשמיים.
מול עינינו מתרחש פיגוע מדיני וביטחוני חסר תקדים. קומץ עבריינים שורף את מעט הלגיטימציה שנותרה למדינת ישראל, מסכן את כוחות הביטחון ופוגע בהתיישבות ביהודה ושומרון ובביטחון הלאומי.
אף אחד בהנהגה לא יוכל לטעון שלא העירו אותו בזמן ושלא התריעו בפניו.
— Gadi Eisenkot – גדי איזנקוט (@gadi_eisenkot) October 17, 2026
آئزنکوت مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری اور بستیوں کی توسیع کے اصولی طور پر حامی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ سب اسرائیلی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ وہ نیتن یاہو کی حکومت کے زیرِ سایہ قائم ہونے والی غیر قانونی بستیوں کو ختم کرنے اور فلسطینیوں پر حملہ کرنے والے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے خلاف کارروائی کے حق میں ہیں، جسے وہ ’یہودی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہیں۔
