پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وفاقی حکومت کے درمیان لانگ مارچ روکنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد دونوں جانب سے دعوے اور الزامات عائد کیے جارہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی جبکہ پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان تک رسائی، ان کے علاج اور خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشن سے متعلق معاملات پر اتفاق نہ ہوسکا۔
سوال یہ ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ کیا بنی؟ کیا سیاسی کشیدگی کم کرنے کا راستہ بند ہوچکا ہے؟ اور اب لانگ مارچ کے حوالے سے حکومت اور پی ٹی آئی کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
مذاکرات میں کیا طے ہوا اور ڈیڈلاک کہاں پیدا ہوا؟
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا بنیادی مقصد پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو روکنا اور سیاسی کشیدگی کم کرنا تھا۔
حکومت چاہتی تھی کہ پی ٹی آئی احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان سے ملاقات اور ان کے طبی معائنے و علاج سے متعلق مطالبات سامنے آئے۔
مذاکرات کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے معاملات اور خیبرپختونخوا حکومت کے وفاق کے ساتھ تعاون کا سوال بھی اہم تنازع بن گیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق صوبائی حکومت پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے، قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر عمل درآمد اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون سمیت متعدد امور پر تحریری معاہدے کے لیے تیار ہوگئی تھی، لیکن آخری مرحلے میں اس نے ان وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
The KP Government had agreed to sign a written agreement and submit an implementation plan within 72 hours, covering
• Reconsideration of the Police Act 2026 in light of the security situation and the need to protect security matters from political interference
• Preventing terrorists from operating freely or finding safe havens in the province
• Unequivocal condemnation of TTP/TTA and all other terrorist groups
• Support for the national policy on Afghan refugees, including repatriation and dismantling Afghan camps in KP
• No contact with the Interim Afghan Government
• Substantial funding for counterterrorism operations and the police
• Full provincial ownership of counterterrorism measures and stronger cooperation with the Armed Forces
• Decisions on counterterrorism in the former FATA and merged districts
• Implementation of the National Action PlanLast night, during the final phase of negotiations, the KP Government backed out of these commitments. Security must not be politicised while the province is at War
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 4, 2026
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج سے متعلق معاملات کے ساتھ سکیورٹی آپریشنز پر اختلافات برقرار رہے۔
بریکنگ نیوز 🚨
مذاکرات ختم ڈیڈ لاک برقرار، علامہ راجہ ناصر کا کہنا ہے کہ حکومت نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ابھی آپ کا ملاقات نہیں کروا سکتے ہیں۔ https://t.co/b3QJbkcKoE— Faisal Khan (@KaliwalYam) October 3, 2026
یوں مذاکرات میں کسی ایک معاملے پر نہیں بلکہ سیاسی احتجاج، عمران خان کے معاملات اور وفاق و صوبے کے سکیورٹی تعاون جیسے مختلف امور پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ڈیڈلاک برقرار رہا۔
کیا مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں؟
مذاکرات کا فی الحال فوری مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔ نہ لانگ مارچ روکنے پر اتفاق ہوا اور نہ ہی دیگر معاملات پر کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا۔
حکومت کی جانب سے بات چیت کے لیے آمادگی برقرار رہنے کا اشارہ دیا گیا ہے، لیکن اس کا اصرار ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو انسدادِ دہشت گردی میں وفاق کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے لیے لانگ مارچ سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ سیاسی طور پر اہم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پارٹی اپنے بانی کی رہائی اور ان کے علاج کے معاملے کو مرکزی اہمیت دے رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مذاکراتی کمیٹی کو بھیجا گیا مسودہ شیئر کردیا ہے۔ جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوں اور ایک مشترکہ سیاسی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ایک سے دو ماہ میں قومی و سیاسی مسائل کے حل کے لیے پیش رفت کرے۔
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) October 4, 2026
ڈرافٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانون کے مطابق طبی سہولیات اور اہلِ خانہ، وکلا و مجاز رفقا سے ملاقاتوں کی اجازت دینے، جبکہ یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی سمیت خواتین سیاسی قیدیوں کی جلد رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ زیرِ التوا قانونی درخواستوں پر دس دن میں کارروائی شروع یا مکمل کرنے اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو 72 گھنٹوں میں اجلاس کرکے مشترکہ حکمتِ عملی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی نے ان مطالبات پر حکومتی یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کو لانگ مارچ کی منسوخی سے مشروط کیا ہے، جبکہ وعدوں کی خلاف ورزی کی صورت میں پُرامن احتجاج کا حق برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس لیے فوری معاہدہ نہ ہونے کے باوجود مزید مذاکرات کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
سہیل آفریدی کی اس ٹوئٹ پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے جواب دیا ہے کہ “ممکن ہے کہ یہ ان (سہیل آفریدی) کا ڈرافٹ ہو، جو رات تقریباً بارہ بجے سامنے لایا گیا، اور جس کا بظاہر یہ مقصد تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان پہلے ہی طے پانے والے مسودوں کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ تاہم مذاکراتی ٹیموں نے ہمارے ساتھ مل کر ایک الگ مسودے کو حتمی شکل دی، جس پر دونوں فریق متفق ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد کا منصوبہ بھی طے پایا تھا۔
This may have been his draft, circulated around midnight in what appeared to be an attempt to derail the drafts already agreed by both sides. However, the negotiating teams finalized a separate draft with us, which both sides agreed to, in addition to the KP Terrorism Related Implementation Plan.
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 4, 2026
اب لانگ مارچ کا کیا ہوگا؟
پی ٹی آئی نے مذاکرات میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کے بعد 4 اکتوبر کو لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان برقرار رکھا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی گزشتہ رات کو لکی مروت سے مارچ کے آغاز کا اعلان کرچکے ہیں اور باقاعدہ شیڈول بھی شیئر کرچکے ہیں تاہم آج (اتوار کو) انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں جو ڈرافٹ شیئر کیا ہے اس میں انہوں نے حکومت کے سامنے اپنے سات مطالبات رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے تو وہ لانگ مارچ منسوخ کردیں گے۔
دوسری جانب حکومتی مشیر رانا ثنا اللہ واضح کرچکے ہیں کہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اس صورت حال میں تین ممکنہ منظرنامے سامنے آتے ہیں:
مذاکرات کی بحالی
اگر دونوں فریق کسی عبوری فارمولے پر متفق ہوجاتے ہیں، مثلاً عمران خان کے علاج اور ملاقات کے معاملے پر قابلِ قبول پیش رفت یا سکیورٹی تعاون سے متعلق تحریری یقین دہانی، تو لانگ مارچ کے شیڈول یا حکمت عملی میں تبدیلی ممکن ہے۔
مارچ جاری رہنا اور حکومتی رکاوٹیں
اگر پی ٹی آئی اپنے اعلان پر قائم رہتی ہے اور حکومت بھی اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دیتی تو راستوں کی بندش، پولیس کی کارروائیوں اور مظاہرین و انتظامیہ کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ
اگر اس دوران پی ٹی آئی کا احتجاج طویل ہوجاتا ہے اور مذاکرات کا راستہ بھی بند رہتا ہے تو وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس صورت میں گورنر راج یا دیگر غیر معمولی آئینی اقدامات سے متعلق بحث بھی شدت اختیار کرسکتی ہے، تاہم ایسے کسی اقدام سے متعلق نتیجہ اخذ کرلینا قبل از وقت ہوگا۔
