وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مذاکرات میں شریک پی ٹی آئی وفد کے پاس مکمل اختیارات نہیں تھے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ نکالنے کے لیے رابطوں میں تیزی آگئی، حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں نے مولانا فضل الرحمان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جبکہ فریقین کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور رانا ثناء اللہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور سیاسی لوگ جب اکٹھے بیٹھتے ہیں تو سیاست پر بات چیت بھی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے تحریک انصاف کو واضح پیغام دیا ہے کہ مذاکرات کرنے ہیں تو لانگ مارچ ختم کرنا ہوگا کیونکہ لانگ مارچ اور مذاکرات بیک وقت نہیں ہوسکتے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات سامنے آتے رہے۔
حکومت کا مؤقف، مذاکرات میں شریک پی ٹی آئی وفد بااختیار نہیں تھا
طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کا وفد مذاکرات میں نیک نیتی سے شریک ہوا تھا اور حکومت نے اس کے سامنے 7 نکات رکھے تھے تاہم پی ٹی آئی وفد نے کہا کہ 8 نکات پر تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ان کے مطابق جب نکات پر عمل درآمد کی بات آئی تو پی ٹی آئی وفد نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے منظوری لینا ہوگی، ایک دن کا وقت لے کر اپوزیشن نے سہیل آفریدی سے رابطہ کیا، جس کے بعد ان کے بقول وزیراعلیٰ نے مذاکرات کو سبوتاژ کردیا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں شریک پی ٹی آئی وفد کے پاس مکمل اختیارات نہیں تھے اور تمام اختیارات وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے پاس تھے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے بغیر سوچے سمجھے لانگ مارچ کی کال دی جبکہ لانگ مارچ کی تاریخ بانی پی ٹی آئی اور سینئر قیادت نے نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی جتھے کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمان سے اپوزیشن کا رابطہ
جے یو آئی کے رہنما کامران مرتضیٰ نے پروگرام میں کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران انہیں اعتماد میں لیا اور آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں مذاکرات کے لیے تیار ہوں تو وہ اس عمل میں مدد کرسکتے ہیں، دونوں فریقین سختیاں کم کریں تو کوئی راستہ نکل سکتا ہے اور ایک دو روز میں بہتری کی امید ہے۔
کامران مرتضیٰ کے مطابق موجودہ صورتحال میں سیاسی رابطوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جاسکے۔
احتجاج اور دھرنوں کے بجائے مذاکرات ضروری ہیں، ندیم افضل چن
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے چاہئیں، پاکستان اس وقت احتجاج اور دھرنوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ تمام سیاسی قوتوں کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہونا چاہیے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور تحریک انصاف اپنے رویوں میں نرمی لائیں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں بہتری کی امید ہے۔
سیاسی استحکام کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے، سینیٹر علی ظفر
پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور سب کو مل کر پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں کو مشاورت کرنے دی جائے، ممکن ہے بہتری کی کوئی صورت نکل آئے، ان کے بقول سیاست دان ہر معاملے کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیتے ہیں اور معاملات حل کرنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔
علی ظفر نے کہا کہ اگر ایک چھوٹے سے مسئلے پر آگے نہ بڑھ سکے تو تاریخ اسے ایک موقع گنوانے کے طور پر دیکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر سب ایک پیج پر ہیں تاہم اس کے ساتھ سیاسی استحکام بھی ضروری ہے۔
حکومت کا پی ٹی آئی قیادت سے مزید مطالبہ
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کو کسی آل پارٹیز کانفرنس کی ضرورت نہیں تاہم اگر تحریک انصاف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے دو واضح بیانات دلوادے تو اس کے بعد کی ذمہ داری وہ خود لینے کو تیار ہیں۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو واضح طور پر کہنا ہوگا کہ وہ صوبے میں دہشت گردی اور تحریک طالبان پاکستان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، جبکہ سکیورٹی اداروں اور پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی مکمل تائید کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی میچورٹی کے ساتھ آگے بڑھے تو معاملات میں پیش رفت ہوسکتی ہے جبکہ صوبے میں اگر ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجہ ان کے بقول صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی ہوگی۔
وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات بھی متوقع
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات میں بھی مشاورت ہونی ہے۔ آئینی عہدوں پر تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر کی وزیراعظم سے ملاقات ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سب کی مشترکہ ہے اور اپوزیشن لیڈر چاہیں تو پارلیمنٹ آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اپوزیشن لیڈر کا مسئلہ نہیں، جبکہ 27 ستمبر کی کال سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں اور بشریٰ بی بی کی فیملی کی ملاقاتیں تاحال جاری ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ موجودہ لانگ مارچ کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں کیا گیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک طرف مذاکرات کی بحالی کی بات کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب لانگ مارچ، سکیورٹی صورتحال اور خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف پر اختلافات برقرار ہیں۔



