بھارت نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ون ڈے میں مقررہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 351 رنز بنا لیے، یوں ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے 352 رنز بنانے ہیں۔
بھارت کی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا، کپتان شبھمن گل صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ ویرات کوہلی بھی پہلی ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ دونوں وکٹیں جےڈن سیلز نے حاصل کیں۔
اس کے بعد روہت شرما اور رتوراج گائیکواڑ نے اننگز کو سنبھالا۔ روہت شرما نے 85 گیندوں پر 92 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے، جبکہ رتوراج گائیکواڑ نے 69 گیندوں پر 57 رنز بنائے۔
بھارت کی بڑی اننگز کے مرکزی کردار وکٹ کیپر بلے باز کے ایل راہول رہے، جنہوں نے صرف 87 گیندوں پر 129 رنز کی ناقابلِ شکست سنچری بنائی۔ ان کی اننگز میں 10 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔
نمن دھیر نے 21 گیندوں پر 30 رنز کی تیز اننگز کھیلی جبکہ ون ڈے ڈیبیو کرنے والے انشول کمبوج نے 9 گیندوں پر 17 رنز بنائے، جس میں دو چھکے شامل تھے، نتیش کمار ریڈی 9 رنز بنا سکے۔
اختتامی اوورز میں گرنور برار نے 6 گیندوں پر 8 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ بھارت نے آخری 5 اوورز میں 65 رنز بنائے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے جےڈن سیلز سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے 10 اوورز میں 62 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ کیمو پال نے 2 جبکہ گڈاکیش موتی نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
بھارت نے سیریز کے ابتدائی دونوں میچز جیت کر پہلے ہی دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کر رکھی ہے۔ تیسرے ون ڈے میں اب ویسٹ انڈیز کو سیریز کا آخری میچ جیتنے کے لیے 352 رنز بنانے ہیں۔
انشول کمبوج کا ڈیبیو
واضح رہے کہ بھارت نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور نوجوان آل راؤنڈر انشول کمبوج کو ون ڈے انٹرنیشنل میں ڈیبیو کرایا گیا۔
بھارت نے تیسرے میچ کے لیے ٹیم میں تین تبدیلیاں کیں۔ انشول کمبوج کو انجری کا شکار پرسِدھ کرشنا کے متبادل کے طور پر اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا اور اب انہیں پلیئنگ الیون میں بھی جگہ مل گئی ہے۔ محمد سراج بھی ابتدائی دو میچز میں باہر رہنے کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں، جبکہ نتیش کمار ریڈی کو بھی پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق کمبوج نے آسٹریلیا اے کے خلاف کھیلتے ہوئے بھارتی اسکواڈ میں جگہ بنائی تھی۔ پرسِدھ کرشنا کو دوسرے ون ڈے کے دوران بائیں ہیمسٹرنگ انجری کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد کمبوج کو ان کا متبادل مقرر کیا گیا۔
بھارت نے رویندر جدیجا کو آرام دیا ہے، جس کے باعث ٹیم میں نتیش کمار ریڈی کو موقع ملا ہے۔ کمبوج کو نمبر آٹھ پر شامل کیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم ان سے نچلے نمبر پر بیٹنگ میں بھی کردار ادا کرنے کی توقع رکھتی ہے۔
دوسری جانب ویسٹ انڈیز نے بھی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئیں، جیول اینڈریو کو ٹاپ آرڈر میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ میتھیو فورڈ اور گڈاکیش موتی کو بھی پلیئنگ الیون میں جگہ دی گئی۔ کیسی کارٹی، روسٹن چیز اور شمر جوزف کو ٹیم سے باہر کیا گیا ہے۔



