امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور تہران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ طے پا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ان مذاکرات کا حصہ ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر سے کسی بھی وقت ملاقات کر سکتے ہیں اور خود ایران کے مطابق بھی یہ مذاکرات سپریم لیڈر کی منظوری سے ہی ہو رہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم ہونے کے بعد عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو اسرائیل کا وجود ہی ممکن نہ رہتا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے گزشتہ روز غصے میں بات کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی اور کشیدگی برقرار رکھنے پر پریشان تھے، جس کی وجہ سے یہ تلخ کلامی ہوئی۔
