امریکی افواج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، تازہ کارروائی پاسداران انقلاب کی جانب سے قبرص کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز پر حملے کے بعد کی گئی ہے۔
سینٹ کام کےمطابق ایرانی حملے کے بعد عملے کا ایک رکن لاپتہ ہے ، جہاز پر آگ لگ گئی اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے جہاز اپنا سفر جاری رکھنے سے قاصر ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا مزید کہنا ہے کہ ایران کو اس سے قبل بھی تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد طرز عمل بہتر بنانے اور مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا، تاہم ایران ایک بار پھر اس میں ناکام رہا۔ یہ حملے امریکی صدر کی ہدایت پر کیے گئے۔
بعدازاں سینٹکام کا بتانا تھا کہ امریکی افواج نے11جولائی کوایران کےخلاف اس ہفتےکی تیسری کارروائی مکمل کر لی،زمینی وبحری طیاروں، ڈرونزاورجنگی جہازوں سےتقریباً140ایرانی فوجی اہداف کونشانہ بنایاگیا۔
حملوں میں میزائل، ڈرون تنصیبات، اسلحہ گودام اورمواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا،حملوں میں بحری صلاحیتیں، ساحلی مراکز، میزائل، ڈرون تنصیبات اوراسلحہ گودام شامل تھے،اب تک 300سےزائدایرانی اہداف کونشانہ بنایا جا چکا ہے۔

فوٹو:پینٹاگون
دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمزمیں بحری جہاز پروارننگ شاٹ فائر کی گئی ، بحری جہازغیرمنظورشدہ راستے پرسفرکرنے کی کوشش کررہا تھا۔وارننگ شاٹ کے بعدبحری جہاز نے اپنی پیشرف روک دی۔
فارس نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہاز کوکروزمیزائل سے نشانہ بنایا گیا، جہاز نے وارننگ شاٹ اورواپس مڑنے کی ہدایت کونظراندازکیا تھا۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ ایران نے غلط راستے کاانتخاب کیا ہے،ایران کواب قیمت چکانا پڑے گی۔یاد رہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کو تا حکم ثانی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ
دریں اثناء اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ڈیل کے تحت اپنے وعدے پورا نہ کیے تو ایرانی حکومت مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کر دے گی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیرسعید ایراونی نے 7 اور 8 جولائی کو ایرانی جزائر اور جنوبی شہروں پر امریکی حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی اور باہمی مفاہمتی یادداشت کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے خلاف ورزیاں جاری رکھیں تو ایران بھی اپنی ذمہ داریاں پورا کرنے کا پابند نہیں رہے گا۔
