لاہور: جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امن جرگہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔ تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے لیے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ جس میں امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق خان، عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود شامل ہیں۔ گرینڈ جرگہ کمیٹی میں سابق ججز، ریٹائرڈ عسکری شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی جلد راولاکوٹ کا دورہ کرے گی۔ اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے براہ راست بات چیت کرے گی۔ مظاہرین کے بعض اعتراضات جائز ہیں، تاہم مہاجرین اور مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ 12 مخصوص نشستوں کے معاملے پر مذاکرات کے ذریعے قابل قبول حل تلاش کیا جائے گا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرے، کیونکہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماشکیل میں دہشتگردوں کی فائرنگ، 5 مزدور جاں بحق، ترجمان وزیراعلی بلوچستان
انہوں نے مزید کہا کہ حکمران ضد اور انا کو ترک کرتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دیں، کیونکہ پاکستان مزید داخلی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر میں مزید خونریزی نہیں دیکھنا چاہتی اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
