پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو خط لکھ کر ان کے بھائی نوید آفریدی پر حلقہ پی کے 71 میں مبینہ سیاسی اور انتظامی مداخلت کے الزامات عائد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
پی ٹی آئی کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیر اعلیٰ کو لکھا گیا خط سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر بھی جاری کر دیا۔
جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے بھائی نوید آفریدی حلقے میں کھلی کچہریوں کا انعقاد اور سرپرستی کرتے ہیں، جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے افسران کو ان تقریبات میں شرکت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ شرکت سے انکار کرنے والے افسران کو تبادلوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
خط کے مطابق ان مبینہ اقدامات سے ایک منتخب عوامی نمائندے کی حیثیت سے عبدالغنی آفریدی کی سیاسی ساکھ اور اختیارات متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے سے متعدد بار وزیراعلیٰ کو آگاہ کر چکے ہیں اور صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کے ذریعے بھی شکایت پہنچائی گئی، تاہم اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں آئی۔
جناب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا صاحب
موضوع: حلقہ PK-71 کے انتظامی و سیاسی معاملات میں غیر متعلقہ مداخلت کے حوالے سے گزارش
میں نہایت احترام کے ساتھ آپ کی توجہ ایک اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جو نہ صرف میرے حلقے بلکہ حکومتی نظم و ضبط اور تنظیمی ہم آہنگی پر بھی منفی اثرات…— Abdul Ghani Afridi (@Abdulghani1116) July 11, 2026
رکن صوبائی اسمبلی نے ضلعی انتظامیہ اور بعض سرکاری افسران کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ مبینہ طور پر غیر منتخب افراد کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں، جس سے انتظامی امور اور عوامی نمائندگی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی یورپ پہنچنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 64 فیصد کمی
عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو وہ قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے پر غور کریں گے۔
