لاہور: لیسکو (لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی) میں گریڈ 18 سے 20 کے افسران کی مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کر دی گئی۔ جس کے بعد انہیں بھی عام صارفین کی طرح بجلی کے بل ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 30 برس بعد لیسکو افسران کو بجلی کے مکمل بل موصول ہوئے ہیں۔ ماضی میں گریڈ 18 کے افسران کو سالانہ 6 ہزار، گریڈ 19 کے افسران کو 8 ہزار جبکہ گریڈ 20 کے افسران کو 10 ہزار مفت بجلی یونٹس فراہم کیے جاتے تھے، تاہم اب یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مفت یونٹس کی سہولت ختم ہونے کے بعد افسران کو بھاری بجلی کے بل موصول ہو رہے ہیں۔
ایک ایس ڈی او کو اپنے 10 مرلہ گھر کے لیے 72 ہزار روپے کا بجلی بل موصول ہوا، جس پر متعلقہ افسر کا کہنا تھا کہ 28 سالہ ملازمت میں پہلی مرتبہ اتنا زیادہ بل ادا کرنا پڑے گا اور اب عام صارفین پر پڑنے والے مہنگی بجلی کے بوجھ کا عملی احساس ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے بعض افسران نے عدالتوں سے مفت بجلی کی سہولت بحال کروا لی ہے، جبکہ لیسکو افسران کا مؤقف ہے کہ اس معاملے پر ملک بھر میں یکساں پالیسی ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا سہیل آفریدی کے بھائی پر سیاسی مداخلت کا الزام، تحقیقات کا مطالبہ
لیسکو افسران نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو تمام اداروں کے لیے مفت بجلی کی سہولت مکمل طور پر ختم کی جائے یا پھر وزارت توانائی تمام بجلی کمپنیوں کے لیے یکساں اور شفاف پالیسی نافذ کرے تاکہ کسی ادارے کے ملازمین کو امتیازی سہولت حاصل نہ ہو۔
