وفاقی وزیر قانون اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کو او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پر فخر ہے ۔
او آئی سی خواتین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ او آئی سی وزارتی کانفرنس کے شرکا کو اسلام آباد آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں، او آئی سی کی چیئرمین شپ اتفاق رائے اور تعاون کے جذبے سے نبھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی ،مسلم دنیا کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے ،لاکھوں خواتین اوربچیاں آج بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کا معاشی اور سیاسی بااختیار ہونا پائیدار ترقی کیلئے ناگزیر ہے ، مسلم خواتین نے علم، قیادت، کاروبار اورعوامی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام نے 1400 سال قبل خواتین کو عزت، حقوق اور قانونی شناخت عطا کی، ہر خاتون اور بچی کو تعلیم، ترقی اور قیادت کے برابر مواقع ملنے چاہئیں۔
سزا یافتہ قیدی سے جیل قوانین کے مطابق سیاسی ملاقاتیں ممنوع ہیں، اعظم نذیر تارڑ
انہوں نے مزید کہا کہ قومی صنفی پالیسی 2025 اور وزیراعظم ویمن ایمپاورمنٹ پیکج پر عمل جاری ہے ، او آئی سی ایکشن پلان اور ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اہم پلیٹ فارم ہیں، پاکستان او آئی سی کی چیئرمین شپ کو اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتا ہے ۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کانفرنس کی کامیابی کا معیار خواتین کیلئے پیدا ہونیوالے عملی مواقع ہوں گے، پاکستان میں خواتین کیلئے محفوظ اور مساوی مواقع حکومتی ترجیح ہے۔
گزشتہ روز او آئی سی کی خواتین کانفرنس سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا تھا۔
دو روزہ کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 مندوبین شرکت کر رہے ہیں، جن میں ممتاز خواتین، حکومتی نمائندے، او آئی سی کے مبصرین اور تنظیم کے عہدے دار شامل ہیں۔
