ایرانی وزارت خارجہ ںے کہا ہے کہ ایران کو دفاع پر موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، کیونکہ ایران نے کسی بھی حملے میں پہل نہیں کی اور اس کے تمام اقدامات حقِ خود دفاع کے تحت کیے گئے۔
تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکی اڈوں پر کی جانے والی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقِ دفاع کے دائرے میں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنے والے ممالک سے بھی اس حوالے سے سوال کیا جانا چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ایران کے مؤقف کو نظر انداز کیا، جبکہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت اس وقت بحران کا شکار ہے اور جب تک امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی اس پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔
Mr. Spokesperson,
This is not a “military confrontation.” It is the continuation of a blatant and unprovoked act of aggression initiated on 28 February by the United States and Israel.
Iran does not “attack.” Iran’s strikes on U.S. military bases and assets stationed in the… pic.twitter.com/KQVkc2DbZL— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 12, 2026
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے معاہدے کی ابتدائی ایک ماہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، لہٰذا کوئی بھی ایران پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام نہیں لگا سکتا۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ کا طرزِ عمل اب پوری دنیا کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی افواج نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کردیے
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران جہازرانی کے تحفظ کے لیے عمان کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار وضع کر رہا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے عمان پر دباؤ کے باعث اس سلسلے میں پیش رفت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ مشاورت بھی کی ہے، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ دورۂ عمان کامیاب رہا۔
اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر لبنان اور فلسطین میں مسلسل حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہر مرحلے پر مذاکرات میں قومی عزم اور عوامی مفادات کو مقدم رکھا، تاہم امریکی رویے نے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔
