بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر اسکرپٹڈ پریس کانفرنسوں سے مسلسل گریز کی پالیسی ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ غیر ملکی دورے کے دوران نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے صحافیوں نے مودی سے براہ راست سوال کیا کہ وہ آزاد صحافیوں کے سامنے سوال و جواب کی نشستوں میں شرکت کیوں نہیں کرتے، تاہم انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
رپورٹ کے مطابق مودی نے اپنے دورے کے دوران کسی بھی غیر اسکرپٹڈ پریس کانفرنس سے گریز کیا اور صرف پہلے سے طے شدہ تقاریب اور سرکاری مصروفیات تک خود کو محدود رکھا۔
الجزیرہ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم طویل عرصے سے ایسی پریس کانفرنسوں سے اجتناب کرتے آئے ہیں جہاں صحافی بغیر پیشگی تیاری کے سوالات کر سکیں۔ اس کے برعکس وہ عوامی اجتماعات، تقاریر اور منظم تقریبات کے ذریعے اپنا پیغام پہنچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
رپورٹ میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا سابقہ مؤقف بھی شامل کیا گیا، جس کے مطابق نریندر مودی میڈیا کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست عوام سے رابطے پر یقین رکھتے ہیں، کیونکہ بھارت کی بڑی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں عوام اپنے رہنماؤں سے براہ راست رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔
The Indian government has defended PM Narendra Modi’s continued refusal to hold press conferences, after a New Zealand reporter questioned Modi’s avoidance of the media on an official state visit.
It’s the third such incident facing the PM in less than two months. pic.twitter.com/fg3JxIjpzp
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 12, 2026
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جمہوری ملک کے وزیراعظم کے لیے آزاد میڈیا کے سوالات کا سامنا کرنا شفاف حکمرانی، جوابدہی اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔ غیر اسکرپٹڈ پریس کانفرنسیں حکومتی پالیسیوں پر وضاحت فراہم کرنے اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
الجزیرہ کے مطابق مودی کا یہ طرز عمل ماضی میں بھی بین الاقوامی میڈیا کی تنقید کا باعث بنتا رہا ہے، جبکہ حالیہ دورے کے دوران اٹھنے والے سوالات نے اس بحث کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
