قومی سلیکٹر اور قومی اکیڈمی کے بیٹنگ کنسلٹنٹ مصباح الحق نے نوجوان کرکٹرز پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے پر زور دیا ہے۔
مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کامیابی کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں بلکہ نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور سخت محنت بھی ضروری ہے۔
پی سی بی ڈیجیٹل کو انٹرویو میں مصباح الحق نے کہا کہ کوچز، مینٹورز اور والدین نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی ضرور کریں، تاہم ان پر ایسا دباؤ نہ ڈالیں جو ان کے کھیلنے کے جذبے اور اعتماد کو متاثر کرے۔
شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم کے لیے منتخب نہ کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کو ذمہ داری دینا ضروری ہے، لیکن ان کی عمر، ذہنی نشوونما اور سیکھنے کے عمل کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو غلطیوں سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مناسب وقت اور مواقع ملنے چاہییں۔
سابق کپتان نے چار روزہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ فارمیٹ نوجوان کھلاڑیوں کی تکنیک، صبر، فیصلہ سازی اور ذہنی مضبوطی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دورانیے کی کرکٹ ہی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح کے چیلنجز کے لیے تیار کرتی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا، فیلڈنگ کوچ شین میکڈرمٹ نے استعفیٰ دے دیا
انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب کھلاڑی روزانہ محنت، فٹنس، پریکٹس اور متوازن غذا پر سمجھوتہ نہیں کرتا، 4 روزہ کرکٹ نوجوان کھلاڑیوں کی تکنیک اور ذہنی مضبوطی نکھارتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر نوجوان کرکٹرز نظم و ضبط، محنت اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنائیں تو وہ مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
