امریکی افواج نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کردئیے،امریکی سینٹ کام کے مطابق مختلف مقامات پر درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا،حملوں کامقصد آبنائے ہرمزمیں ایرانی صلاحیت کوکمزورکرناہے۔
امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار مراکز، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کونشانہ بنایا،ایران کی چھوٹی بحری کشتیوں کو لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ایران کے خلاف نئی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز انتہائی اہم عالمی تجارتی بحری گزرگاہ ہے ،ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا،تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت برقراررکھنے کویقینی بنانے کیلئے تیار ہیں۔
ایرانی میڈیا کا بتانا ہے کہ ماہشہر میں واٹرپمپنگ اسٹیشن پر امریکی حملے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ4زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ24گھنٹے کے دوران امریکا کے فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے وحشیانہ حملے اقوام متحدہ کے منشورکی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

امریکی حملوں نے مغربی ایشیا میں امن بحالی کی کوششوں کونقصان پہنچایاہے،جنگ بندی معاہدہ کے صرف 25 روز بعد امریکا نےتمام اہم شقوں کی خلاف ورزی کی،امریکا نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سے متعلق ایران کے قانونی اقدامات میں بھی مداخلت کی۔
امریکا نے بعض ممالک کی سرزمین استعمال کرکے انہیں غیر قانونی جنگ کا حصہ بنا دیا ،ایران حملے کے ذرائع اور مقامات ہمارے دفاعی حملوں کا جائز ہدف بن سکتے ہیں،مسقط مذاکرات سے متعلق امریکی صدر کے دعوے حقیقت کے منافی ہیں۔
یواین سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل حملہ آوروں کا احتساب کریں،امریکی فوج کی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کوبند کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی ایرانی حملوں کی شدید مذمت
علاوہ ازیں آبنائے ہرمزسے بحری ٹریفک گزرنے سے متعلق امریکی نیوز ویب سائٹ نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمزسے گزشتہ24گھنٹے میں 20تجارتی جہازامریکی فوج سے رابطہ کرکے گزرے،کئی جہاز امریکی فوج کے ساتھ رابطے کے بغیر بھی آبنائے ہرمز سے گزرے۔
