ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی جس سے ترکیہ کے لیے سعودی عرب کو فوجی امداد فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں سال اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں طے پایا کہ کسی ایک فریق پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
گزشتہ ماہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو آئندہ چند روز میں پارلیمنٹ میں توثیق کے لیے پیش کیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق حکمران جماعت کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی گزشتہ ماہ عندیہ دیا تھا کہ ترکیہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کرے گا۔
سعودی عرب میں فوجی دستوں کی تعیناتی یمن کے حوثی باغیوں کے مملکت پر حملوں کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔ اس بات کا فیصلہ گزشتہ ماہ ریاض میں منعقدہ مکہ دفاعی اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں مکہ اور مدینہ سمیت سعودی عرب کے دیگر شہروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد کیا گیا تھا۔
اجلاس میں مکہ اتحاد برائے دفاع کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی ترقی کے سلسلے میں اہم فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو 3 سال کے لیے اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا۔
کمیٹی نے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر عملی اقدامات فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں متفقہ فوجی دستے اور مطلوبہ دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے اور منظور شدہ انتظامات اور تینوں ممالک کے قومی قوانین کے مطابق انہیں سعودی عرب میں تیزی سے تعینات کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد دفاعی تیاری، فوجی انضمام اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایران کے دارالحکومت تہران میں چار ملکی اجلاس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں ایران اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے علاقائی تعاون مضبوط بنانے، امن و سلامتی کے فروغ اور باہمی روابط کو وسعت دینے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات کا تسلسل انتہائی اہم ہے۔ چاروں ممالک نے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔



