ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو آئندہ چند روز میں پارلیمنٹ میں توثیق کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے رواں سال 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
معاہدے کو ترک پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان اس کی ملکی سطح پر توثیق کے عمل میں اہم پیش رفت ہے۔ تاہم اردوان نے یہ نہیں بتایا کہ پارلیمنٹ میں اس پر کب ووٹنگ ہوگی یا توثیق کا عمل کب مکمل ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد نے 5 اکتوبر کو ہنگامی اجلاس میں مکہ اور مدینہ سمیت دیگر سعودی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب میں فوجی دستے فوری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ معاہدہ کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستوں کی تعیناتی، اس فیصلے کا مطلب کیا ہے؟
اس پیش رفت پر سینیئر ترک صحافی رجب سوئیلو نے دعویٰ کیا تھا کہ ترکیہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کسی دوسرے ملک میں فوجی دستے تعینات نہیں کر سکتا۔
اس کے علاوہ ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے 8 اکتوبر کو کہا تھا کہ ان کا ملک مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کو حملوں سے بچانے میں ممکنہ تعاون کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ترکیہ کسی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔
Turkish Foreign Minister Hakan Fidan says the Mecca Defense Alliance has discussed support for Saudi Arabia’s defense while exploring a peaceful resolution to the Yemen conflict through dialogue. https://t.co/n6vCMTo7oL
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) October 5, 2026
فیدان کے مطابق، فوجی حکام سعودی عرب کی دفاعی ضروریات اور ترکیہ و پاکستان کی جانب سے ممکنہ تعاون کا تعین کر رہے ہیں، جس میں فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی معاونت پر توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ دفاعی معاہدہ ہے، جارحانہ کارروائیوں کے لیے نہیں، اور ترکیہ کسی دوسرے ملک میں حملے کرنے کے لیے فوج نہیں بھیجے گا۔
اس حوالے سے پاکستان نے بھی اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب میں موجود ہے تاہم کسی قسم کی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لے رہا۔
In an interview with CNN, DG ISPR Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry says Pakistani troops have been deployed in Saudi Arabia for decades, adding that Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye have longstanding diplomatic, political and military relations.
@OfficialDGISPR
#PakistanSaudiArabia #DGISPR #Türkiye #DefenceCooperation #PakistanTV— Pakistan TV (@PakTVGlobal) October 9, 2026
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 9 اکتوبر کو ایک انٹرویو کے دوران مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ “میں یہ (تعداد) کنفرم نہیں کر سکتا مگر میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ پاکستانی فوج پہلے سے وہاں(سعودی عرب میں) موجود ہے، ہمارے فوجی دستے دہائیوں سے وہاں ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی دونوں ملکوں کے دیرینہ دفاعی تعلقات کا حصہ ہے جبکہ مکہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب اور حرمین شریفین کا دفاع کرنا ہے اور وہ کیا جائے گا۔
