پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔
آر فور مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا چار ممالک کا ایک علاقائی سفارتی پلیٹ فارم ہے۔ جس میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب شامل ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جنگوں اور کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنا ، تنازعات کے سیاسی حل کی کوشش کرنا اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہے۔
العربیہ انگلش کے مطابق استنبول میں ہونے والے آر فور وزارتی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں علاقائی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سعودیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا اعاد کیا۔
اعلامیے کے مطابق سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں، خصوصاً شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ حوثی ملیشیا کی کارروائیاں یمن میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
🔊 PR No. 3️⃣0️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement on the R4 Ministerial Meeting (Istanbul, 23 October 2026)
🔗⬇️ https://t.co/4JioKD2aAU
— Pakistan High Commission Bangladesh (@PakinBangladesh) October 24, 2026
اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ حوثی ملیشیا فوری طور پر فوجی کارروائیاں اور حملے بند کرے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری سے ممکن ہے، امریکا، اسرائیل اور ایران کے تنازع میں شہریوں، شہری تنصیبات اور جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے، وزرائے خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں علاقائی معاملات پر قریبی مشاورت اور رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور کہا گیا کہ اسرائیلی قبضہ خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔
Minister of Foreign Affairs @HakanFidan hosted the Seventh Foreign Ministers’ Meeting of Türkiye-Egypt-Pakistan-Saudi Arabia, in İstanbul. https://t.co/NcuAVPOsRl
— Turkish MFA (@MFATurkiye) October 23, 2026
اعلامیہ میں مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں تمام آبادکاری کی سرگرمیوں کی مذمت کی گئی، اجلاس میں اسرائیل سے پر تشدد کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
واضح رہے آر فور ممالک کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت اور اسے مستقل سفارتی حل کی جانب اہم پیشرفت قرار دینا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی ریاست کے قیام پر مشترکہ مؤقف اور سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق یکجہتی اس تعاون کی مثالیں ہیں۔



