پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہو گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس مکہ کے قصر الصفا ہوا،جس میں وزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر طیب ایردوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان شریک ہوئے۔ تینوں ممالک نے مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے، معاہدے کو مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیراعظم شہبازشریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے عزم کا عکاس ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو فروغ دیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی برادرانہ اور اسلامی یکجہتی کے روابط مزید مستحکم ہونگے، تینوں ممالک نے مشترکہ مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات ہوئی ، جس میں اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اورخواجہ آصف بھی شریک ہوئے۔
