ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن علاقائی سلامتی پر مشاورت کے لیے تہران آئیں گے۔
اس خبر کی تصدیق خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی اپنے ذرائع سے کی ہے۔ ادارے کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے، جس میں علاقائی سلامتی اور باہمی رابطوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
رائٹرز نے اس پیش رفت سے واقف 2 ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کریں گے، جبکہ ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ بھی ملاقات میں شریک ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق یہ ملاقات سعودی عرب پر یمنی حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد تینوں ممالک کے اتحاد اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلا رابطہ ہوگا۔
تاہم سعودی حکومت کے میڈیا دفتر، پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ اور ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اس بارے میں خود کوئی بیان جاری کیا نہ رائٹرز کی جانب سے مؤقف کی درخواستوں کا فوری جواب دیا۔
واضح رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ ہفتے بھی تہران گئے تھے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس دورے میں ایرانی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ تہران کے مطالبات پورے ہونے تک امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اس ملاقات کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں جنہیں قریبی اتحادیوں یعنی امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی آمدہ انتخابات کے سلسلے میں ’سیاسی ضرورتوں‘ سے جوڑا جا رہا ہے۔
امریکا میں مڈٹرم الیکشن 3 نومبر جبکہ اسرائیل میں جنرل الیکشن 27 اکتوبر کو ہونا قرار پائے ہیں جن سے قبل دونوں رہنما ایران جنگ میں کسی بڑے بریک تھرو کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق ایران مڈ ٹرم الیکشن سے قبل ٹرمپ کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی کوشش میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو جان بوجھ کر طول دے رہا ہے۔ لیکن ایران کی مذاکرات سے ہچکچاہٹ کی بڑی وجہ معاہدے کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی کے خدشات اور واشنگٹن پر گہرا عدم اعتماد ہے جس کے پیچھے اسلام آباد امن معاہدے کے بعد امریکا کا طرز عمل ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان کی کامیاب ثالثی اور سفارتی کوششوں سے جون میں طے پایا تھا، تاہم چند ہفتوں بعد ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے یہ معاہدہ برقرار نہ رہ سکا۔
اب امریکہ اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے جبکہ سفارتکاری کا دروازہ بھی کھلا ہے۔



