فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان ، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور سکیورٹی چیف محسن رضائی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں جنگ بندی اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی صدر کیساتھ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ تھے۔
President @drpezeshkian: Washington’s belligerent posture is the root cause of all regional troubles, including rising tensions and disruptions in the Strait of Hormuz.
Before any negotiations can take place, the US must first lift its pressures, threats, and sanctions. https://t.co/t1xUC7eM17
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 20, 2026
پاکستان نے رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایرانی قیادت سے رابطے اور تہران کا دورہ اسی سفارتی عمل کا حصہ ہے۔ جنگ کے بعد فیلڈ مارشل کا یہ ایران کا چوتھا دورہ ہے تاہم اب تک کی کوششوں کے باوجود تنازع کے مستقل حل اور آبنائے ہرمز میں معمول کی آمدورفت کی بحالی کے لیے اہم چیلنجز برقرار ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل سے ملاقاتوں کے دوران ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اس کے مطالبات پورے ہونے تک امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل سے ملاقات کے موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقر قالیباف نے کہا کہ جب تک امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی جانب سے گزشتہ ماہ پیش کردہ سات شرائط پوری نہیں کرتا، تہران واشنگٹن پر دوبارہ اعتماد نہیں کر سکتا۔
.@mb_ghalibaf : Iran has no new words other than seven conditions for talks
https://t.co/ivWJlG1hjV https://t.co/yJ400rz1nB
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 20, 2026
ایران کے مطالبات میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور خطے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہیں۔
ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ ملاقات میں بھی یہی مؤقف دہرایا کہ تہران کے مطالبات پورے ہونے تک امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسی میٹنگ کے دوران فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان۔ایران بارڈر کھلی ہے۔
ارنا کے مطابق یورینیم کی منتقلی کے معاملے پر محسن رضائی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ ہتھیاروں کے درجے کے قریب افزودہ یورینیم بیرون ملک نہیں بھیجا جائے گا۔
The Secretary of the Supreme National Security Council stated that no quantity of Iran’s enriched nuclear material, however small, will be permitted to leave the country. Meanwhile, the Pakistan Army Chief explicitly confirmed that the Iran-Pakistan border remains open. https://t.co/JIijKio8yT
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 20, 2026
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے اور امریکا کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ایران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہو گی۔
خیال رہے امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنا تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ عام مقاصد کے لیے درکار افزودگی سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ جوہری ہتھیار کے درجے تک پہنچنے کے لیے عموماً تقریباً 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کے الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔
اس سے قبل جون میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی پر ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم چند ہفتوں بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے سے یہ پیشرفت برقرار نہ رہ سکی۔
ایران کی جانب سے مذاکرات کو مطالبات کی تکمیل سے مشروط کرنے کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اہمیت حاصل ہو گئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے امکانات تاحال غیر یقینی ہیں۔



