علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں قطری ثالث اتوار کو ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جہاں وہ امریکا کے ساتھ رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ ہم کل ہی کرسکتے ہیں جبکہ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملوں کا عندیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، امریکی میڈیا کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات اور اہم معاشی مراکز شامل ہو سکتے ہیں تاہم ان حملوں کے حوالے سے حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وزارت خارجہ کے مرکز برائے سیاسی و بین الاقوامی مطالعات میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی کا مکمل خاتمہ ضروری ہے، جبکہ جنگ دوبارہ چھڑے یا نہ چھڑے، ایران اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ جنوب مشرقی ایران میں فضائی دفاعی یونٹس نے حاجی آباد کے قریب بندر عباس کی فضائی حدود میں ایک دشمن لوکاس طرز کے امریکی ڈرون کی نشاندہی کے بعد اسے تباہ کردیا۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق صورت حال سے باخبرایک عہدیدارنے بتایا کہ قطری ثالث اتوار، 25 اکتوبر کو تہران میں موجود تھے اوران کی آمد کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں معاونت کرنا ہے۔
عہدیدار کے مطابق یہ کوشش امریکا کے ساتھ رابطوں اورہم آہنگی کے تحت کی جا رہی ہے تاہم عہدیدار نے ثالثی کے ایجنڈے، ایرانی حکام سے ملاقاتوں یا کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
قطر خطے میں سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں قطری ثالثوں کی تہران میں موجودگی کو علاقائی صورتحال میں تناؤ کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ ان رابطوں کے نتیجے میں کوئی باضابطہ مذاکرات ہوں گے یا کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی عملی پیش رفت کا اعلان کیا جائے گا۔



