گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ سانحہ پشاور پر 15 دنوں میں ذمہ داری پوری کرکے سزا و جزا کا عمل تیز کیا جائے گا۔
گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 32 بچے اور 2 خاتون ٹیچرز جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ اسکول مالک کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم نے بہت سے سانحات دیکھے لیکن یہ بہت بڑا سانحہ تھا، سرکاری اور نجی اسکولوں کا آڈٹ کروایا جا رہا ہے، این او سی دینے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔اسکولوں سے متعلق 2017 میں قانون بنایا گیا تھا۔
گورنرخیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ دیر کالونی اسکول کا این او سی کہیں نہ کہیں موجود ہے، گرفتاراسکول مالک کے علاوہ ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔عمارت معیار کے لحاظ سے فٹ نہ ہوئی تو اسے سیل کیا جائے گا اور کارروائی ہوگی، خیبر پختونخوا میں اب تمام امور اور کام صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ سابق حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر بھی کارروائی ہوگی، جس افسر کے خلاف ثبوت ملے اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ صوبے کے بچوں کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیں گے۔
گورنرخیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ جس نے صوبے کا حق کھایا اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا،ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، دوسری طرف یہ بچوں کے قاتل ہیں۔
انہوں نے دیر کالونی اسکول سانحے کو انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کی اولاد یا بچوں کو تو واپس نہیں لایا جا سکتا،واقعے میں شہید ہونے والے ہر بچے کے لواحقین کو10 لاکھ روپے امداد دی جائے گی جبکہ زخمی ہونے والوں کو تین تین لاکھ روپے امداد دینگے۔
قبل ازیں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی دیر کالونی پہنچے، ان کے ہمراہ صوبائی مشیر اطلاعات ثمر بلور اور پولیس حکام بھی تھے، اس موقع پر انہوں نے واقعے میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور دعا کی۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔



